ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
اقبال نے ’’بال جبریل‘‘ میں ’’باغی مرید‘‘ کے عنوان سے دو اشعار کہے ہیں۔ ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن یہ اشعار حتمی طور پر پاکستانی سیاست اور حکومت کی نشان دہی کرتے ہیں۔…

