کوچۂ سخن – ایکسپریس اردو
غزل اوڑھے ہوئے ہے آج جو گردو غبار شخصہوتا تھا اپنی ذات میں باغ و بہار شخص اک بار بھی نہ دیکھا اسے تو نے کم نظر آتا رہا جو در پہ ترے باربار شخص چہرہ بھی اپنا دیکھ نہ پایا تمام عمر جو آئنوں کا کرتا رہا کاروبار شخصاس سے بھی پوچھتے ہو مدد کیا کریں تری؟جو ہے ضروریات کا اک اشتہار شخص چھا…

