اسلام آباد: سینیٹ میں جمعہ کے روز آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا، تاہم اس موقع پر پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان نے بل کی بھرپور مخالفت کی۔
ایوانِ بالا کے اجلاس کے دوران بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن ارکان نے سخت اعتراضات اٹھائے اور حکومت پر قانون سازی میں عجلت برتنے کا الزام عائد کیا۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے سینیٹرز نے کہا کہ ترمیمی بل پر مزید غور اور کمیٹی سطح پر مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھا گیا، جبکہ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے حساس قوانین اتفاقِ رائے سے منظور کیے جائیں۔
حکومتی وزراء نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم قومی ضرورت کے تحت کی گئی ہے اور بل کا مقصد ادارہ جاتی بہتری اور قانونی وضاحت ہے۔ بل کی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی بھیجے جانے کا امکان ہے جہاں مزید کارروائی مکمل کی جائے گی۔

