اسلام آباد: ملکی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت نے 14 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ مجرم پر چار سنگین الزامات ثابت ہوئے، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال اور متعلقہ افراد کو غیر قانونی نقصان پہنچانا شامل ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مقدمے کی کارروائی قانون اور ضابطے کے مطابق مکمل کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ مجرم کی سیاسی کرداروں کے ساتھ مل کر سیاسی ہنگامہ آرائی، عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں اور دیگر متعلقہ معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے، جن پر اضافی کارروائی کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید، سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کے ڈی جی رہے اور ملکی سیاست و سیکیورٹی کے حساس ترین معاملات میں کلیدی کردار کے باعث نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔
فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں نے ملکی سیاسی، سفارتی اور عسکری حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ سرکاری سطح پر یہ اقدام ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قانون کی عمل داری کا ایک اہم اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

