ایرانی قیادت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کرنے والی کسی بھی کارروائی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران امن کا خواہاں ہے، تاہم دباؤ، دھمکیوں اور مداخلت کی پالیسی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
سابق اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ اور اعلیٰ سیاسی رہنما علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایران کی جانب بڑھنے والا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا”، اور ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
علی لاریجانی نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران پُرامن احتجاج کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی یا تخریبی سرگرمیوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوامی مطالبات کو سننے اور مسائل کے حل کے لیے تیار ہے، تاہم بدامنی پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ امریکی بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ ایران ہمیشہ مذاکرات، باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کا حامی رہا ہے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

