(ویب ڈیسک) عوامی جمہوریہ چین میں ایک عدالت نے 11 افراد کو پھانسی دے دی جو میانمار میں سرگرم مجرمانہ گروہوں اور ٹیلی کام فراڈ آپریشنز سے منسلک پائے گئےتھے۔
یہ لوگ چین سے جا کر میانمار میں فراڈ، جبری جسم فروشی، بردہ فروشی جیسے دھندے چلا رہے تھے۔ انہیں گرفتار کروا کر چین واپس لایا گیا اور مقدمہ چلایا گیا۔
چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق ان 11 افراد کو چین کے مشرقی صوبہ ژیجیانگ کے شہر وینژو کی عدالت نے ستمبر میں قتل، غیر قانونی حراست، فراڈ اور جوئے کے اڈوں کے قیام کے الزامات میں موت کی سزا سنائی ۔
ان عادی مجرموں میں بدنام منگ فیملی کرمنل گروپ کے ارکان بھی شامل تھے جنہوں نے میانمار میں مجرمانہ سرگرمیوں کے کئی مرکز قائم کر کے ٹیلی کام فراڈ اور غیر قانونی جوئے کے اڈے چلائے۔ یہ لوگ جسم فروشی اور غیر ملکیوں کو قید رکھ کر ان سے بیگار لینے کے دھندے میں بھی ملوث پائے گئے۔
منگ خاندان کے افراد ان بہت سے مافیا گروہوں میں سے ایک تھے جنہوں نے لاؤکینگ شہر کو مجرمانہ انداز سے کنٹرول کرتےہوئے ایک غریب شہر کو کیسینو اور ریڈ لائٹ سرگرمیوں کے ایک چمکدار مرکز میں تبدیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیئے: پاک آسٹریلیا ٹی ٹوینٹی سیریز کا پہلا میچ، پاکستان نے 22 رنز سے جیت لیا
ان کی جعلسازیوں اور مجرمانہ سرگرمیوں کی سلطنت 2023 میں تباہ ہو گئی، جب انہیں میانمار کے اس سرحدی علاقہ کے مقامی ملیشیا حکام نے حراست میں لے کر چین کے حکام کے حوالے کر دیا ۔ ان ملیشیا حکام نے میانمار کی فوج کے ساتھ تنازعات میں اضافے کے دوران لاؤکینگ شہر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم پیپلز کورٹ نے اپیل کی سماعت کے بعد تصدیق کی کہ ان مجرموں کے فراڈ اور جوئے کے دھندوں میں شامل رقم کی مالیت 10 ارب یوآن (تقریباً 1.4 ارب ڈالر) سے زائد تھی۔
ان گروہوں نے ارادی قتل، حملے اور غیر قانونی حراست کے ذریعے 14 چینی شہریوں کو بھی ہلاک کیا اور دیگر افراد کو زخمی کیا۔
جنوب مشرقی ایشیا میں فراڈ کمپاؤنڈز
آن لائن فراڈ کے پیچیدہ دھندوں میں ملوث فراڈ کمپاؤنڈ تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور میانمار میں کئی جگہوں پر قدم جما چکے ہیں خاص طور پر میانمار کے سرحدی علاقوں میں جہاں قانون کی عملداری کمزور ہے، وہاں غیر ملکیوں کے ساتھ فراڈ کے دھندے چلانے کے لئے غیر ملکیوں کو ہی ملازمت کا جھانسا دے کر بلانے اور ان سے بیگار لینے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ چینی حکام نے اپنے شہریوں کے ساتھ ان علاقوں میں ہونے والے جرائم کا سختی سے نوٹس لیا اور ان جرائم میں ملوث چینی باشندوں کو گرفتار کروا کر چین لانے اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے طویل جدوجہد کی۔
میانمار کے اس علاقہ میں درجنوں پاکستانیوں کو بھی قید کر کے جبری بیگار لینے کے واقعات ہوئے۔ حکومت پاکستان نے بہت سے شہریوں کو اس جہنم سے نجات دلوا کر پاکستان واپس لانے کے لئے پیچیدہ سفارتی اور قانونی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیئے: میانمار: فراڈ سینٹرز کیخلاف کریک ڈاؤن، پاکستانیوں سمیت سینکڑوں غیر ملکی بازیاب
یہ بھی دیکھیئے: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فراڈ سینٹرز سےپاکستانیوں سمیت 215 غیرملکی بازیاب


