امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس ہتھیار ڈالنے جا رہی ہے، حالانکہ ماضی میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ کبھی ایسا نہیں کرے گی۔
کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ (حماس) کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے جا رہے ہیں۔” انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کے بیان کو خطے میں جاری صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سفارتی سرگرمیوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس پر مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم حماس کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اور فریقین کے سرکاری مؤقف سامنے آئے بغیر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا، تاہم امریکی صدر کا یہ بیان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

