اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی Moody’s نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کا نقطہ نظر Stable سے Positive میں تبدیل کر دیا ہے، جو ملک کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور بینکوں کی مضبوط مالی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایجنسی Fitch نے بھی پاکستان کی B- ریٹنگ کو مستحکم نقطہ نظر کے ساتھ برقرار رکھا۔
معاشی استحکام اور ترقیMoody’sموڈیز 2025 کے مطابق، پاکستان کی معیشت میں 3 فیصد بڑھنے کی توقع ہے جبکہ افراط زر 8 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔ ستمبر 2024 میں منظور شدہ 37 ماہ کے 7 ارب ڈالر کے IMF پروگرام نے آئندہ کئی سالوں کے لیے پاکستان کو بیرونی مالیاتی معاونت کا قابل اعتماد ذریعہ فراہم کیا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے جنوری 2026 میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا۔ جون 2024 سے شروع ہونے والے مانیٹری پالیسی ایزنگ سائیکل کے تحت شرح سود میں کل 1000 بیسس پوائنٹس کی کمی کی گئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 تک 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔
مالی سال 2023-24 میں 84 فیصد خوردہ لین دین ڈیجیٹل تھے۔ قومی فوری ادائیگی کا نظام Raast نے 1.9 بلین لین دین مکمل کیے جن کی مالیت 44.3 ٹریلین روپے تھی۔ Easypaisa نے تقریباً 50 ملین رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ 2024 میں 9.5 ٹریلین روپے مالیت کے لین دین پروسیس کیے۔
میزان بینک 2024 میں پاکستان کا سب سے زیادہ منافع کمانے والا بینک بنا، جس نے ریکارڈ 103.7 ارب روپے منافع کمایا۔ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے 74.8 ارب روپے کا منافع بتایا جو 32.5 فیصد زیادہ ہے۔ ہبیب بینک لمیٹڈ نے جون 2025 کو ختم ہونے والے نصف سال میں 75.3 ارب روپے منافع کمایاموڈیز نے خبردار کیا کہ پاکستان کی طویل المیعاد قرضوں کی پائیداری اہم خطرہ ہے، کیونکہ ملک کی مالی پوزیشن اب بھی کمزور ہے۔ تاہم، بہتر ہوتے معاشی حالات، شرح سود میں کمی، ڈیجیٹل بینکنگ کی ترقی، اور بینکوں کی مضبوط منافع نے مستقبل کے لیے امید کی کرن دکھائی ہے

