جان مارک پومر شائم کا پانچ روزہ دورۂ پاکستان اختتام پذیر

55093284088 fe85d698b3 o scaled


اسلام آباد: امریکی محکمہ خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے نائب معاون وزیر، جان مارک پومر شائم کا پانچ روزہ دورۂ پاکستان اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ دورہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان جاری قریبی تعاون کا مظہر ہے۔ یہ پیش رفت ایسے اہم موقع پر سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک مشترکہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے مفادات کے فروغ پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے خواہاں ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن کے تحت امریکہ نئی شراکت داریاں قائم کرنے، جدت کو فروغ دینے اور سفارتکاری کے ایک نئے دور کی تشکیل کی جانب گامزن ہے، جس کا مقصد آئندہ ڈھائی سو برسوں کے لیے مضبوط بنیاد رکھنا ہے۔
اپنے دورے کے دوران جان مارک پومر شائم نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل کاشف عبداللہ، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس میجر جنرل واجد عزیز خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کاروباری شخصیات اور امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
اسلام آباد میں نائب معاون وزیر خارجہ نے انڈس آرٹیفیشل انٹیلی جنس ویک کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کے آئی ٹی اور ڈیجیٹل شعبوں میں شراکت داری کے فروغ کے لیے امریکی مفادات کی حمایت کی اور امریکی کمپنیوں کے لیے مساوی مسابقتی ماحول کی وکالت کی۔ پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، اختراع، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، نایاب معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون پر خصوصی زور دیا گیا۔
انہوں نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت جاری پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہا اور شفاف اور قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری ماحول کو یقینی بنانے کے لیے جاری کوششوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کے نفاذ کا خیرمقدم کیا۔
سرکاری ملاقاتوں کے علاوہ، جان مارک پومر شائم نے لاہور میں منعقدہ بسنت میلے میں شرکت کی اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں صوبے میں امریکی تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور امریکہ میں پاکستانی سرمایہ کاری بڑھانے جیسے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے یو ایس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان کی نئی عمارت کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی تبادلہ پروگراموں کے سابق طالبعلموں سے ملاقات کی۔

متعلقہ پوسٹ