پاکستان نے افغان طالبان کو سرحدی حملے کے بعد ‘سنگین نتائج’ کی وارننگ دی، شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی مذمت

images 9 9


اسلام آباد، 27 فروری 2026 – پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے افغان طالبان کو خبردار کیا ہے کہ ان کی حالیہ سرحدی حملہ ایک "بھیانک غلطی” ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ بیان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں افغان فورسز نے مبینہ طور پر رات کی تاریکی میں غیر اشتعال انگیز حملے کیے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نقوی نے اس حملے کو "بزدلانہ” کارروائی قرار دیا جو رات کے وقت کی گئی۔ "افغان طالبان نے حملہ کرکے بھیانک غلطی کی۔ انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ شہریوں پر جارحیت "ناقابل برداشت” ہے اور پاکستان کی مسلح افواج نے اس حملے کا "مضبوط اور فیصلہ کن جواب” دیا۔ نقوی نے فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور ہوشیاری کی تعریف کی اور کہا کہ قوم اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ "ہم اپنی سلامتی یا شہریوں پر کسی بھی خطرے کی اجازت نہیں دیں گے،” انہوں نے دہرایا اور خبردار کیا کہ معصوم لوگوں کو نقصان پہنچانے کی ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
یہ واقعہ 2025-2026 افغانستان-پاکستان تنازعہ کا حصہ ہے، جو اکتوبر 2025 میں پاکستان کی جانب سے افغان علاقے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف فضائی حملوں سے شروع ہوا۔ افغان طالبان فورسز نے اس کے بعد سرحدی حملوں سے جواب دیا، جس سے دونوں جانب بھاری جانی نقصان ہوا۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں سے دہشت گردوں کی پوزیشنز، کمانڈ پوسٹس اور اسلحہ ڈپو کو شدید نقصان پہنچا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے بھی پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا، شریف نے کہا کہ قومی سلامتی پر "کوئی سمجھوتہ نہیں” کیا جائے گا۔db6d77 وزیر دفاع خواجہ آصف نے طالبان پر الزام لگایا کہ انہوں نے افغانستان کو بھارت کا پراکسی بنا دیا اور دہشت گردوں کو پناہ دی، جو نیٹو کے انخلا کے بعد امن کی امیدوں پر پانی پھیر رہا ہے۔4033c2
ان جھڑپوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے، اسلام آباد نے کابل پر سرحد پار دہشت گردی روکنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ افغان حکام نے ان الزامات کی تردید کی اور پاکستان پر اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ اس تنازعہ سے متعدد شہری ہلاکتیں ہوئیں اور علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔
پاکستان نے عشروں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے لیکن حالیہ سیکیورٹی خطرات پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ سفارتی مداخلت کے بغیر صورتحال ایک بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

متعلقہ پوسٹ