(ویب ڈیسک) ایران کےوزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر ، اہم کمانڈر اور شخصیات آج دن میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مھفوظ رہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج شام بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، فوج کے اہم کمانڈرز اور شخصیات محفوظ ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس اعلان سے پہلے اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ میزائل حملوں میں ایران میں حکومت کی اہم سیاسی اور سیکیورٹی شخصیات کے گھروں کو نشانہ بنایا ہ گیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت کی زندگیوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ان حملوں کے ساتھ ہی ایران کے اندر انتر نیٹ بند کر دیا گیا تھا۔
اب ہفتے کی شام کو امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان افواہوں پر کھل کر گفتگو کی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بالکل خیریت سے ہیں۔
البتہ انھوں نے یہ اعتراف کیا کہ حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ممکن ہے ہمارے ایک یا دو فوجی کمانڈر ہلاک ہوئے ہوں لیکن تقریباً تمام اعلیٰ حکام محفوظ اور خیریت سے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں بند کریں۔اگر امریکہ دوبارہ ایران سے بات چیت شروع کرنا چاہتا ہے تو صدر ٹرمپ کو معلوم ہے کہ رابطہ کیسے اور کس طرح کرنا ہے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات موجود تھیں۔
اس دوران ایرانی میڈیا مین آنے والی رپورٹوں کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ آرمی چیف عامر حاتمی کی ہلاکت کی خبریں غلط ہیں اور وہ بدستور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
صدر مسعود پزیشکیان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایرانی صدر محفوظ ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، بحرین وغیرہ میں میزائلوں سے حملے کئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے مسلم ممالک میں موجود امریکی مفادات پر کر رہا ہے۔


