(24 نیوز)عام طور پر گھر بنانا ایک سردرد سمجھا جاتا ہے، نقشے، اینٹیں، سیمنٹ اور مہینوں کی محنت لیکن اب مشہور ڈیزائنر جوڑی ’چارلس اور رے ایمز‘ کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کے پوتے ڈیمیٹریس نے ایک ایسا طریقہ متعارف کروایا ہے جس سے گھر بنانا کسی ’لیگو‘ بلاکس کو جوڑنے جیسا آسان ہو جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق اییمز آفس نے ”اییمز پیویلین سسٹم“ متعارف کروایا ہے، جس کے ذریعے آپ اپنا گھر، دفتر، چھوٹی دکان یا نمائش کی جگہ آسانی سے بنا اور ڈیزائن کر سکتے ہیں۔
اس سسٹم میں گھر کے ڈیزائن کے اصول اور انداز کو آسان اور ماڈیولر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
یہ دراصل بنے بنائے ڈھانچوں کا ایک مجموعہ ہے یعنی آپ کو گھر کے حصے الگ الگ ملیں گے جنہیں آپ اپنی ضرورت کے مطابق جوڑ کر ایک کمرہ، دفتر یا پورا گھر تیار کر سکتے ہیں۔
اییمز ڈیمٹریوس کہتے ہیں کہ انہوں نے خود ایک پری فیب ہوائی جہاز ہینگر بطور گیراج بنایا ہے، اس لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ ہر چیز پہلے سے ترتیب کے ساتھ تیار ہو۔
انہوں نے کہا، یہ ان عام کٹس سے بہت بہتر ہے جہاں لوگ آپ کو ڈھیر سارے پرزے بھیج دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خود ہی سمجھ لو کہ کیا کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:جعلی شناخت پر اٹلی جانے کی کوشش کرنیوالا گرفتار
اگرچہ اییمز پیویلین ماڈلز اییمز ہاؤس کی طرح دکھتے ہیں، یہ اصل عمارت کی نقل نہیں ہیں۔
یہ مختلف ڈیزائنز سے متاثر ہیں، جیسے پڑوس میں موجود انٹینزا ہاؤس اور فلم ساز بلی وائلڈر کے لیے کبھی تصور کیا گیا گھر۔
ڈیمٹریوس کے مطابق صرف اییمز ہاؤس کی نقل دینا عجیب لگے گا،اس کے بجائے، انہوں نے اس ”سسٹم“ کے اصل خیال کو پیش کیا ہے تاکہ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکے۔
پیویلینز میں وہی مشہور بلیک بیمز، سلائیڈنگ اسکرینز اور لکڑی کے گرم اندرونی حصے شامل ہیں جو اییمز ہاؤس میں تھے۔
آپ بیرونی حصے کو اپنی مرضی کے مطابق کھڑکیوں، رنگین یا جیومیٹرک پینلز اور اسٹیل بارز کے ساتھ ڈیزائن کر سکتے ہیں اور مستقبل میں اضافے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
سب سے چھوٹا ماڈل ایک میٹنگ روم جیسا ہو سکتا ہے جبکہ سب سے بڑا ماڈل بڑی کھلی جگہ کے لیے بنایا جا سکتا ہے۔
فی الحال یہ سسٹم صرف دو منزلہ عمارت تک محدود ہے اور ماہرین اس کی اونچائی بڑھانے کے لیے انجینئرنگ پر کام کر رہے ہیں۔


