اسلام آباد — ایران نے ایک بار پھر بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ریڈار میں نظر نہ آنے والا (اسٹیلتھ) امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے اور اس کا پائلٹ بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ طیارہ ملک کے وسطی یا جنوب مغربی علاقے میں فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب اور سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طیارہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس تھا، جو ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اسے کامیابی سے مار گرایا۔ پائلٹ ایجیکٹ کر کے پیراشوٹ کے ذریعے اترا اور ایرانی سیکیورٹی فورسز نے اسے گرفتار کر لیا۔ کچھ رپورٹس میں طیارے کو F-35 یا F-15E قرار دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ امریکی جارحیت کا جواب تھا۔ ایرانی ٹی وی چینلز نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی "دشمن پائلٹ” نظر آئے تو اسے پولیس کے حوالے کریں، جس کے بدلے بڑا انعام دیا جائے گا۔
امریکی فوج نے اس دعوے کی فوری تردید نہیں کی، البتہ CENTCOM نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فورسز نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں اور C-130 ہرکولیس طیاروں کے ذریعے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ یہ آپریشن ایران کے مغربی یا وسطی علاقوں میں کم اونچائی پر کیا جا رہا تھا، مگر ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریسکیو مشن ناکام رہا۔
یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل-امریکہ تنازع کے شدید مرحلے میں پیش آیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ایران نے متعدد امریکی طیاروں اور ڈرونز کو مار گرانے کے دعوے کیے ہیں، جبکہ امریکہ ان میں سے اکثر کی تردید کرتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہوا تو یہ امریکی فضائی برتری کے لیے بڑا دھچکا ہو گا، کیونکہ اسٹیلتھ طیارے (خاص طور پر F-35) کو ناقابل تسخیر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

