اسلام آباد / لاہور — خصوصی رپورٹ
پاکستان میں پیٹرول کی آسمان چھوتی قیمتوں اور قلت کے خدشات نے عوام کو متبادل سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور درمیانے و نچلے طبقے کے صارفین تیزی سے روایتی پیٹرول بائیکس سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔
عوام کیوں رخ موڑ رہے ہیں؟
مارکیٹ ماہرین کے مطابق الیکٹرک بائیک کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ روزانہ کی بچت ہے۔ ایک اوسط پیٹرول موٹر سائیکل سوار ماہانہ 8 سے 12 ہزار روپے ایندھن پر خرچ کرتا ہے جبکہ الیکٹرک بائیک پر یہی سفر صرف 1500 سے 2000 روپے میں ممکن ہے۔
مارکیٹ کی صورتحال
ملک میں درجنوں مقامی اور چینی برانڈز سرگرم ہو چکے ہیں۔ 30 ہزار سے 1.5 لاکھ روپے تک کی قیمت میں دستیاب یہ بائیکس ہر طبقے کی پہنچ میں ہیں۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور پشاور کے شوروم میں ویٹنگ لسٹ طویل ہوتی جا رہی ہے۔
حکومتی پالیسی
حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس مراعات دے رکھی ہیں جس سے قیمتیں مزید قابل برداشت ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آئندہ 3 سے 5 سال میں پاکستان کی سڑکوں پر الیکٹرک بائیکس کا غلبہ ہو سکتا ہے۔

