راولپنڈی/پاکستان، یکم مئی 2026 — عالمی یوم مزدور کے موقع پر پاکستان بھر میں محنت کشوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ رہنماؤں اور عوام نے محنت کش طبقے کو معاشرے اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے ان کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود پر زور دیا ہے۔

یوم مزدور دنیا بھر میں یکم مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1886 کے شکاگو کے ہے مارکیٹ واقعے کی یاد میں منایا جاتا ہے جہاں محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کام، مناسب اجرت اور بہتر حالات کار کے لیے جدوجہد کی تھی۔

شفقت اللہ وڑائچ نے اپنے پیغام میں کہا کہ کسان، کارخانوں کے مزدور، تعمیراتی کارکن اور روزمرہ خدمات فراہم کرنے والے تمام محنت کش معاشی ترقی کے اصل معمار ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ایک مضبوط اور خوشحال قوم کا خواب تب ہی پورا ہو سکتا ہے جب مزدور باوقار زندگی گزار سکیں۔“ انہوں نے کم اجرت، طویل اوقات کار، صحت کی سہولیات کی کمی اور سماجی تحفظ کے فقدان جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔
انہوں نے خاص طور پر کنٹریکٹ ورکرز، ڈیلی ویجز اور تھرڈ پارٹی ورکرز کی مستقلی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ”تمام محنت کشوں کو متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔“
انہوں نے مزدوروں کی صحت اور خاندانی بہبود پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند مزدور ہی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کم آمدنی والے طبقات کو مالی، صحت اور تعلیمی معاونت کے اقدامات کو سراہا گیا۔
آخر میں شفقت اللہ وڑائچ نے معاشرے سے اپیل کی کہ ”ہم اپنے اردگرد موجود مزدوروں کے ساتھ عزت کا سلوک کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔“
انہوں نے پاکستان کی حفاظت اور خوشحالی کے لیے دعا کی: ”اللہ تعالیٰ پاکستان کو اندرونی و بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے۔ پاکستان زندہ باد!“

