تحریر: آسیہ خٹک
ہر سال بجٹ پیش ہوتا ہے، اعداد و شمار کی لمبی فہرستیں سامنے آتی ہیں، ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں، معاشی استحکام کی نوید سنائی جاتی ہے اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ بجٹ ان کی زندگی میں آسانیاں لائے گا۔ مگر بجٹ تقریر ختم ہوتے ہی عام آدمی کے ذہن میں ایک ہی سوال جنم لیتا ہے: کیا واقعی یہ بجٹ میرے لیے ہے؟
بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی دستاویز نہیں بلکہ یہ حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست کن طبقات کو تحفظ دینا چاہتی ہے اور کس طبقے سے مزید قربانی کی توقع رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس بار بھی بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اصل مخاطب مڈل کلاس، تنخواہ دار طبقہ اور عام شہری نہیں ہیں بلکہ ہمیشہ کی طرح یہ بجٹ بھی اشرافیہ کے لیے ہے۔
بجٹ کے حوالے سے نجی ٹی وی کی ایک شہری سے گفتگو کی ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے جس میں شہری اپنے حالات بتاتے ہوئے رو پڑتا ہے۔ مطلب اس ملک میں ایک تنخواہ دار بندہ اپنے اخراجات پورے نہیں کر سکتا تو ایک دیہاڑی دار مزدور کیسے پورے کرے گا؟ اس بجٹ میں بھی ان کے لیے کوئی خاص امید دکھائی نہیں دی۔
اب آ جاتے ہیں تنخواہ دار طبقے پر۔ ہمارے ملک کا سب سے زیادہ منظم اور ذمہ دار طبقہ تنخواہ دار طبقہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر ماہ اپنی آمدن کا باقاعدہ حساب دیتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود قانون کے دائرے میں رہ کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہر بجٹ میں سب سے پہلے انہی کی جیب پر نظر ڈالی جاتی ہے۔
ایک سرکاری ملازم، استاد، بینک ملازم، صحافی یا نجی ادارے میں کام کرنے والا متوسط طبقے کا ہر فرد آج جس معاشی دباؤ کا شکار ہے، شاید اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہو۔ مہنگائی نے پہلے ہی زندگی مشکل بنا رکھی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، بچوں کی فیسیں، علاج معالجہ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں بجٹ سے توقع تھی کہ اس طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
اس سال کے بجٹ میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جسے بظاہر ریلیف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ اضافہ واقعی خاطر خواہ ہے؟ جب ضرورتِ زندگی کی تمام اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہوں تو تنخواہ میں چند فیصد اضافے کا اثر ہی کیا ہوگا؟ ایک سرکاری ملازم کو اگر تنخواہ میں چند ہزار روپے زیادہ مل بھی جائیں تو وہ تب بھی بڑھتے ہوئے بلوں اور مہنگی ہوتی زندگی کو آسانی سے منیج نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے بڑے اہداف مقرر کیے ہیں اور محصولات بڑھانے کے لیے مختلف ذرائع پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ریاست کو آمدن کی ضرورت کیوں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ آمدن اکٹھی کرنے کا بوجھ کس کے کندھوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ آج بھی تنخواہ دار طبقہ، رجسٹرڈ کاروبار اور مڈل کلاس سب سے زیادہ آسان ہدف سمجھے جاتے ہیں جبکہ معیشت کے کئی طاقتور شعبے مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں نہیں آ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ کے بعد متوسط طبقے میں یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ قربانی صرف انہی سے مانگی جا رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بجٹ میں دی گئی مراعات سے زیادہ اہم یہ دیکھنا ہے کہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں کتنا اضافہ ہوا۔ اگر تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو لیکن اخراجات 20 یا 25 فیصد بڑھ جائیں تو کاغذی ریلیف اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو آج ایک استاد، کلرک، صحافی، بینک ملازم اور نجی ادارے میں کام کرنے والا ہر شخص اپنے آپ سے پوچھ رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ بجٹ سازی کے عمل میں وہ طبقے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جن کے پاس وسائل، رسائی اور اثر و رسوخ موجود ہوتا ہے۔ اعلیٰ بیوروکریسی، بڑے سرمایہ دار، بااثر زمیندار اور اشرافیہ پر مشتمل پروفیشنل کلاس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے منظم انداز میں کام کرتی ہے۔ بجٹ سے پہلے اسلام آباد کے ایوانوں اور راہداریوں میں مختلف شعبوں کے نمائندے متحرک ہو جاتے ہیں تاکہ اپنی مراعات برقرار رکھ سکیں یا مزید فوائد حاصل کر سکیں۔
دوسری جانب عام شہری کے پاس نہ کوئی مضبوط لابی ہے اور نہ ہی وہ بجٹ سازی کے عمل میں براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس طبقے سے سب سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، وہی طبقہ سب سے کم سنا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نیٹ کا بڑا بوجھ انہی لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی نظام میں رجسٹرڈ ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا، اس لیے اس سے ٹیکس وصول کرنا آسان ہے، جبکہ معیشت کے کئی بڑے شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے۔ اس عدم توازن کی قیمت بھی عام شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ قرضوں کی ادائیگیاں، مالی خسارہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مشکلات کا بوجھ کس حد تک منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا رہا ہے؟ اگر مہنگائی کا سامنا صرف عام آدمی کرے اور مراعات یافتہ طبقات بدستور آسودہ رہیں تو معاشی اصلاحات کا مقصد دفن ہو جاتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ بجٹ سازی کے عمل کو زیادہ عوام دوست بنایا جائے۔ ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو، غیر ضروری سرکاری اخراجات کم کیے جائیں، اشرافیہ کی مراعات پر نظرثانی کی جائے اور متوسط طبقے کو معاشی ریلیف دیا جائے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہی طبقہ کمزور پڑ گیا تو معاشی استحکام کا خواب بھی کمزور پڑ جائے گا۔
معیشت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ بناتے وقت صرف غریب ترین یا امیر ترین طبقے کو ہی نہیں بلکہ اس پسنے والے نوکری پیشہ اور سفید پوش طبقے کو بھی سامنے رکھا جائے۔
ہر سال بجٹ کے بعد حکومت کامیابی کے دعوے کرتی ہے اور اپوزیشن تنقید کرتی ہے، مگر اصل فیصلہ عوام کرتے ہیں۔ وہ عوام جو بازار میں خریداری کرتے وقت قیمتیں دیکھتے ہیں، اپنی استطاعت سے زیادہ بجلی کے بل ادا کرتے ہیں، بچوں کی فیس جمع کرواتے ہیں اور مہینے کے آخر میں اپنے بجٹ کا حساب لگاتے ہیں۔
شاید اسی لیے آج بھی ایک عام آدمی کے ذہن میں یہی سوال موجود ہے کہ آخر یہ بجٹ کس کے لیے بنایا گیا ہے؟

