برن — سوئٹزرلینڈ میں جاری شدید خشک سالی کے دوران ملک بھر میں دریاؤں، نہروں اور جھیلوں میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے۔ وفاقی دفتر برائے ماحولیات (FOEN) نے کہا ہے کہ 1 اپریل سے 31 جولائی کے درمیان متعدد مانیٹرنگ اسٹیشنوں نے اس وقت کے لیے اپنی تاریخِ کم ترین سطح (تقریباً پانچواں حصہ) ریکارڈ کی۔
FOEN کی رپورٹ کے مطابق الپس کے شمال میں کئی آبی گزرگاہوں میں موجودہ پانی کی سطح ایسی نایاب صورتحال کی عکاس ہے جو عام طور پر ہر 2 سے 10 سال بعد یا بعض مقامات پر ہر 30 سے 100 سال میں ایک بار دیکھی جاتی ہے۔ دریں اثنا، جھیل کانسٹنس، جھیل والن، جھیل زوریخ، جھیل زوگ اور جھیل میگیور سمیت متعدد جھیلیں بھی معمول سے کم پانی کی سطح کا سامنا کر رہی ہیں۔
فیڈرل آفس نے نوٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے پاس اب بھی "بھرپور آبی وسائل” موجود ہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلیاں ان وسائل کی دستیابی اور وقتی تقسیم کو تبدیل کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تسلسل پذیر خشک سالی سے زراعت، ہائیڈرو پاور پیداوار، ماحولیاتی نظام اور روزمرہ زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یورپ اس وقت شدید گرمی کی لہر سے گزروںہا ہے، جہاں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر پہنچ چکا ہے۔ اس گرمی اور خشکی کے باعث مختلف ممالک میں دن کے وقت کھلی آفتاب میں کام کرنے پر پابندیاں، عوامی حفاظتی ہدایات اور پانی کے انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ اس سے قبل برطانیہ کے 70 فیصد حصے پر خشک سالی کے اثرات کی رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں۔

