امریکہ میں ایک ہی روز تین قیدیوں کو مہلک انجیکشن دے کر سزائے موت

Untitled


واشنگٹن: امریکہ میں اوکلاہوما، ٹینیسی اور الاباما میں ایک ہی روز تین قیدیوں کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی، جس کے بعد 2026 میں ملک میں ہونے والی پھانسیوں کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔
یہ 15 سال سے زائد عرصے کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ میں ایک ہی دن تین قیدیوں کو سزائے موت دی گئی۔ ٹینیسی میں 66 سالہ انتھونی ہائینز کو 1985 میں 54 سالہ ہوٹل ملازمہ کیتھرین جینکنز کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی۔
اوکلاہوما میں 70 سالہ کارلوس کویسٹا روڈریگز کو اپنی غیر رسمی اہلیہ اولمپیا فشر کے قتل کے جرم میں سزائے موت دی گئی، جبکہ الاباما میں 42 سالہ جیریمی ولیمز کو پانچ سالہ ہالینڈ کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جرم میں مہلک انجیکشن دیا گیا۔
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق، امریکہ میں آخری مرتبہ 7 جنوری 2010 کو ایک ہی دن تین سزائے موت دی گئی تھیں۔ رواں سال فلوریڈا میں 12، ٹیکساس میں 4، اوکلاہوما میں 3 جبکہ ایریزونا، ٹینیسی اور الاباما میں ایک، ایک پھانسی دی جاچکی ہے۔
امریکہ کی 50 ریاستوں میں سے 23 ریاستوں نے سزائے موت ختم کردی ہے، جبکہ کیلیفورنیا، اوریگون اور پنسلوانیا میں پھانسیوں پر پابندی عائد ہے۔ مہلک انجیکشن ملک میں سزائے موت دینے کا مرکزی طریقہ ہے، تاہم بعض ریاستوں میں فائرنگ اسکواڈ اور نائٹروجن ہائپوکسیا بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے نائٹروجن گیس کے ذریعے پھانسی کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سزائے موت کے استعمال کو وسعت دینے کی حمایت کرچکے ہیں۔
یہ پھانسیاں ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب لبنان نے سزائے موت مکمل طور پر ختم کرکے دنیا کا 113واں ملک بننے کا اعلان کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، ایران نے 2025 میں 2,159 سے زیادہ، جبکہ سعودی عرب نے 356 سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔

متعلقہ پوسٹ