ترکی میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر فرانسس جے ریکارڈون نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ترکی کو اسرائیل کے نئے دشمن کے طور پر پیش کر کے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، خاص طور پر آئندہ اکتوبر میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات کے تناظر میں۔
عرب میڈیا کے ایک نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ریکارڈون نے بتایا کہ تل ابیب کی مرکزی شاہراہ پر ایک بڑا انتخابی اشتہار آویزاں کیا گیا ہے جس میں ترک صدر رجب طیب اردگان کو ایران، حزب اللہ اور نیویارک کے میئر کے ساتھ اسرائیل کے مخالفین کی صف میں دکھایا گیا ہے۔ اشتہار پر درج ہے کہ اردگان نیتن یاہو کو انتخابات میں شکست دینا چاہتے ہیں، لہٰذا انہیں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہیے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان بینرز کے سامنے آنے کے چند روز بعد ہی ترکی، اسرائیل کی نئی فوجی کشیدگی کا مرکز بن گیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شمالی شام میں واقع ابو الظہور ایئربیس پر حملہ کیا، جس کا مقصد اسرائیلی حکام کے بقول وہاں ترکی کی مبینہ بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانا تھا۔
اسرائیلی انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم وقت باقی رہنے کے باعث اس حملے کے وقت پر اسرائیل اور بیرونِ ملک شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا یہ حقیقی خطرے کے خلاف پیشگی کارروائی تھی یا انتخابی حمایت کے حصول کے لیے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کئی دہائیوں سے خود کو اسرائیل کی سلامتی کا مضبوط محافظ ظاہر کرتے آئے ہیں اور ماضی میں بھی بحرانوں کو سیاسی فائدے میں بدلنے کی صلاحیت دکھا چکے ہیں۔
ترکی، امریکہ اور نیتن یاہو کے بعض اسرائیلی سیاسی مخالفین نے بھی حملے کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ترکی نے اسرائیلی موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ترک صدر اردگان کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شام میں امن، استحکام اور خوش حالی کے قیام کے لیے شامی حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

