
(24نیوز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی جنگ نہیں،ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے شہری تنصیبات، خوراک اور لوگوں کے روزگار کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟۔
ایرانی صدر نے کہا کہ حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں،خطے کے تمام ممالک کو ایک میز پر بیٹھ کر خطے میں امن اور سلامتی قائم کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان جنگ یا تنازع کی کوئی منطق یا وجہ نہیں،خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے بات چیت اور تعاون کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ایران کو دباؤ کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
مسعود پزشکیان نے بنیادی ضروریات تک رسائی محدود کرنے پر بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا، ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی انسانیت پر یقین رکھتے ہیں تو لوگوں کو پانی، خوراک اور ادویات تک رسائی سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا اور ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔

