واشنگٹن/تہران، (ایجنسی): امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو پورے ایران کو تباہ کرنے کی نئی دھمکی دی ہے۔ فاکس نیوز کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ "اگر اور جب” تہران نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو کیا "پوری قوم کو اڑا دینا” ضروری ہوگا، اور "بہتر ہے کہ وہ دوستانہ رویہ اختیار کریں۔” ینگسٹ کے مطابق صدر نے تین راستے گنوائے: ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا، اسے معاشی طور پر گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دینا، یا کوئی معاہدہ کرنا۔ بظاہر دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب نہیں، جبکہ پاکستان اور قطر کی قیادت میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران اپنے ہتھیار اور "جنگ کا جغرافیہ” بدل دے گا۔ ترجمان حسین محبی نے اتوار کی شام ٹیلی ویژن پر کہا کہ ایسی صورت میں ایران کی دفاعی اور جارحانہ کارروائیاں "نمایاں طور پر تبدیل ہو جائیں گی اور دنیا حیران رہ جائے گی۔” ان کے مطابق ایران نے ایسے نئے اہداف نشان زد کر لیے ہیں جن پر ابھی تک حملہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران طویل جنگ کیلئے تیار ہے، آئی آر جی سی نے امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور مسلح افواج نے سفارت کاری میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خطے میں امریکی غلبہ ختم ہو چکا ہے۔ یہ بیانات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کشیدگی کے دوران آئے ہیں، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کے تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
ٹرمپ کی دھمکی ایسے وقت آئی ہے جب جنگ کے باعث انہیں مایوس کن پولنگ نتائج کا سامنا ہے۔ فاکس نیوز کے سروے کے مطابق ۷۱؍ فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے پاس جنگ ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ۱۰؍ میں سے ۶؍ ووٹرز کہتے ہیں کہ ماضی پر نظر ڈالیں تو جنگ شروع کرنے کا فیصلہ غلط تھا، جبکہ ۱۰؍ میں سے ۴؍ سے زیادہ کے خیال میں اس سے امریکہ کم محفوظ ہوگا اور ۳۲؍ فیصد کے مطابق زیادہ محفوظ ہوگا۔ وسط مدتی انتخابات سے قبل مہنگائی اور زندگی کی لاگت ووٹرز کے سرِفہرست خدشات ہیں، جبکہ ملک بھر میں پیٹرول ۴؍ ڈالر فی گیلن سے اوپر ہے۔
پینٹاگون کے تخمینوں کے مطابق جنگی اخراجات دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور ٹوماہاک میزائلوں اور تھاد انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، جس سے یوکرین جیسے اتحادیوں میں تشویش بڑھی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ امریکی اور حوثی حکام نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کر کے توثیق کی کہ جب تک واشنگٹن الگ تھلگ رہے گا، امریکی اور غیر جانبدار جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
اسی دوران قطر کے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اقوامِ متحدہ کی ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر اکنامک فورم سے خطاب میں خلیجی ممالک اور ایران کو ساتھ لانے والے علاقائی سلامتی فریم ورک کا مطالبہ کیا اور جنگ کو "آنکھیں کھولنے والا لمحہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "ایران ہمارا پڑوسی ہے،” اور دوحہ ثالثی جاری رکھے گا۔ انہوں نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اندرونِ ملک پورٹ فولیو کی توسیع کیلئے ‘دوحہ انویسٹمنٹ’ پلیٹ فارم کا اعلان بھی کیا۔ قطر پانچ برس میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے تقریباً ۳۸.۵؍ ارب ڈالر کے ٹینڈرز جاری کرنے اور رئیل اسٹیٹ و مہمان نوازی میں ۲۲.۵؍ ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کی توقع رکھتا ہے۔

