
(ویب ڈیسک )امریکا میں گاڑیوں کی فیول اکانومی کے نئے اور نسبتاً کم سخت معیارات کے خلاف کیلیفورنیا، نیویارک سمیت دو درجن سے زائد ریاستوں، شہروں اور کاؤنٹیز نے وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کی جانب سے رواں ہفتے نئے ضوابط کو حتمی شکل دی گئی، جنہیں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں گاڑیوں کی زیادہ فیول ایفیشنسی اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کی پالیسی سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے قوانین اس تقاضے کی خلاف ورزی کرتے ہیں جس کے تحت گاڑیوں کے فیول اکانومی معیارات کو ممکنہ حد تک مؤثر سطح پر مقرر کیا جانا چاہیے۔
ریاستوں کے علاوہ ماحولیاتی اور صارفین کے حقوق کی تنظیموں کے ایک اتحاد نے بھی نئے قوانین کے خلاف الگ مقدمہ دائر کیا ہے۔ تمام مقدمات امریکی عدالتِ اپیل میں دائر کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:70 ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے!
رپورٹ کے مطابق نئے ضوابط کے تحت 2031 تک گاڑیوں کے بیڑے کی اوسط فیول اکانومی 34.9 میل فی گیلن مقرر کی گئی ہے، جبکہ بائیڈن دور میں یہ ہدف 50.4 میل فی گیلن تھا۔
ماحولیاتی گروہوں کا کہنا ہے کہ نئے معیار کے نتیجے میں 2031 میں فروخت ہونے والی گاڑیاں موجودہ گاڑیوں کے مقابلے میں کم فیول ایفیشنٹ ہوسکتی ہیں۔
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے اندازوں کے مطابق نئے قوانین سے نئی گاڑیوں کی ابتدائی قیمت میں کمی آئے گی، تاہم اس کے نتیجے میں ایندھن کا استعمال اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج آنے والی کئی دہائیوں تک بڑھ سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

