واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی آئین کی اُس شق پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکتا

FB IMG 1760961686439 1



ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “یہ بہت بری بات ہے، عوام مجھے دوبارہ صدر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن امریکی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔” انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دوران امریکا نے معاشی میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کیں، روزگار کے مواقع بڑھے، توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل ہوئی اور عالمی سطح پر امریکا کا وقار بحال ہوا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر انہیں ایک بار پھر موقع ملتا تو وہ امریکا کو مزید مضبوط اور مستحکم بناتے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملک کو اب بھی ان پالیسیوں کی ضرورت ہے جو ہم نے نافذ کیں، مگر بدقسمتی سے آئینی رکاوٹ اس راستے میں حائل ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں مگر سمجھتے ہیں کہ عوام کو اپنی پسند کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے
واضح رہے کہ امریکی آئین کی 22ویں ترمیم کے تحت کوئی بھی شخص دو بار سے زیادہ صدر منتخب نہیں ہو سکتا۔ یہ ترمیم 1951 میں اُس وقت متعارف کرائی گئی تھی جب سابق صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے چار بار انتخاب جیت کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان ان کے حامیوں میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، کیونکہ سابق صدر اب بھی ریپبلکن پارٹی میں ایک مضبوط اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر اپنی سیاسی مہم کو کسی اور طریقے سے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ