افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر فضائی حملوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے صوبہ خوست میں ایک مقامی رہائشی کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور 9 بچے جاں بحق ہوئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے صوبہ کنڑ اور پکتیکا میں بھی کارروائیاں کیں، جن میں چار شہری زخمی ہوئے۔
اس حوالے سے پاکستانی فوج اور وزارتِ خارجہ نے تاحال کوئی سرکاری مؤقف یا ردِعمل جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان اکتوبر میں جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعدازاں دونوں ممالک نے دوحہ میں فائر بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاہم ترکیہ میں ہونے والے امن مذاکرات شدت پسند گروہوں کے مسئلے پر اختلافات کے باعث کسی طویل المدتی سمجھوتے کے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

