ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب امن تجاویز پر عمل نہ کیا تو اسے مزید علاقے کھونے پڑ سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں صدر پیوٹن نے کہا کہ اگر مخالف فریق مذاکرات سے گریز کرتا رہا تو روس اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم روس اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال سے دریغ نہیں کرے گا۔
روسی صدر کے مطابق، “اگر سفارتی راستہ اختیار نہ کیا گیا تو روس اپنے علاقوں کو فوجی ذرائع سے آزاد کرائے گا۔”
کریملن کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جاری تنازع کی صورت میں روس فوجی طاقت کے ذریعے یوکرین میں مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور عالمی سطح پر ممکنہ امن منصوبوں پر بحث جاری ہے۔

