اعلیٰ عدالت میں ایک سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنی بیوی کو دیے گئے تحائف واپس لینے کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو ایسے الفاظ میں آئینہ دکھایا جو فوری طور پر سرخیوں کی زینت بن گئے۔ جسٹس محسن نے کہا کہ بیوی کو دیا ہوا تحفہ واپس لینا "تھوک کر چاٹنے” والی بات ہے۔
کیس میں ایک شوہر نے درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں اس نے اپنی بیوی کو شادی کے دوران دیے گئے تحائف اور قیمتی اشیاء واپس لینے کی استدعا کی تھی۔
سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ پاکستانی قانون میں ایسی کوئی روایت یا نظیر موجود نہیں جو کسی شوہر کو اپنی مرضی سے بیوی کو دیے گئے تحائف واپس لینے کی اجازت دیتی ہو۔
جسٹس محسن نے اسلامی نقطہ نظر کا حوالہ دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ اسلام بھی خوشی سے دیے گئے تحفے کو واپس لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اپنی مرضی سے دیا گیا تحفہ اخلاقی اور قانونی دونوں اعتبار سے واپس لینے کا استحقاق ختم کر دیتا ہے۔
عدالت کی دو ٹوک اور عوامی زبان میں کہی گئی بات نے وسیع توجہ حاصل کی۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واضح اور سادہ بیانات عام آدمی تک قانون کی روح پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مقدمے کی اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔

