واشنگٹن / تہران — امریکا اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ فوجی آپریشن کا ساتواں روز انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعرات کو ٹمپا، فلوریڈا میں ایک بڑی پریس بریفنگ میں میدانِ جنگ کی تازہ ترین صورتِ حال بیان کی۔
200 اہداف — صرف 72 گھنٹوں میں
گزشتہ 72 گھنٹوں میں امریکی بمبار طیاروں نے تہران سمیت ایران کے اندر تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا۔ آخری گھنٹوں میں امریکی B-2 اسٹیلتھ بمباروں نے زیرِ زمین دبے ہوئے بیلسٹک میزائل لانچرز پر درجنوں 2000 پاؤنڈ وزنی بھاری بم گرائے۔
صدر ٹرمپ کے حکم پر سینٹ کام کو ایران کی میزائل صنعتی بنیاد کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا: "ہم صرف وہی نہیں مار رہے جو ان کے پاس ہے، بلکہ ہم ان کی دوبارہ تعمیر کی صلاحیت بھی ختم کر رہے ہیں۔”
30 بحری جہاز تباہ، ڈرون کیریئر بھی نشانہ
ایڈمرل کوپر نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے 30 سے زائد بحری جہاز ڈبو کر یا تباہ کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹے قبل ایران کا ایک ڈرون بردار جہاز بھی نشانہ بنایا گیا جو دوسری جنگ عظیم کے ایئرکرافٹ کیریئر کے برابر سائز کا تھا اور اس وقت بھی آگ کی لپیٹ میں ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایک "سلیمانی کلاس وارشپ” کو بھی ڈبونے کا اعلان کیا تھا، جسے ایک آبدوز نے ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا — دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
ایران کی مزاحمت کمزور پڑ گئی
سینٹ کام کمانڈر کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں پہلے روز کے مقابلے میں 90 فیصد اور ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آ چکی ہے۔
ایران کی فوجی جارحانہ صلاحیت میں نمایاں کمی کے باوجود سینٹ کام نے خبردار کیا کہ وہ "ہوشیار” رہے گا۔ ہیگسیتھ نے کہا: "ایران کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ ہم یہ جنگ برقرار نہیں رکھ سکتے۔”
خلائی صلاحیتوں پر بھی حملہ
سینٹ کام نے ایران کے "اسپیس کمانڈ کے ہم پلہ” مرکز کو بھی نشانہ بنایا، جس سے ایران کی امریکہ کو خطرہ دینے کی صلاحیت مزید کمزور ہوئی۔

