تل ابیب/تہران (26 مارچ 2026): اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو ہلاک کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے اسے امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعاون کی ایک نئی مثال قرار دیا۔
نیتن یاہو نے ایک ویڈیو بیان میں کہا: "ہم ایرانی دہشت گرد رژیم کے اہداف پر مکمل طاقت کے ساتھ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ رات ہم نے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ اس شخص کے ہاتھوں پر بہت خون ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی قیادت کرنے والا تھا۔”
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے بھی تصدیق کی کہ تنگسیری سمیت بحریہ کے دیگر سینئر افسران کو بندرعباس میں ایک حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تنگسیری آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روکنے میں براہ راست ملوث تھے۔
پاسداران انقلاب نے اب تک اسرائیلی دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ ایرانی میڈیا میں بھی اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اور حالیہ فوجی کارروائیوں کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ حملہ امریکا کے ساتھ مشترکہ جنگی اہداف کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تنگسیری کی موت، اگر تصدیق ہو جائے، تو ایران کی بحری حکمت عملی پر بڑا اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جو عالمی تیل کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔

