نیویارک (3 اپریل 2026) — اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو غٹریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس کے عالمی سطح پر سنگین اور تباہ کن نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
بدھ کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے غٹریس نے کہا کہ بحران اپنے دوسرے ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور دنیا ”وسیع جنگ کے دہانے پر“ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا: ”ہم ایک وسیع جنگ کے دہانے پر ہیں جو پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور دنیا بھر پر ڈرامائی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔“
سکریٹری جنرل نے شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر بڑھتے ہوئے حملوں، انسانی مصائب اور تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”اس جنگ کے ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی تکلیف بڑھ رہی ہے۔ تباہی کا پیمانہ بڑھ رہا ہے۔“
انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے فوری طور پر دشمنیاں ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف جانے پر زور دیا۔
غٹریس کا کہنا تھا: ”میرا پیغام واضح ہے۔ امریکہ اور اسرائیل سے کہتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس جنگ کو روک دیا جائے جو بے پناہ انسانی تکلیف کا باعث بن رہی ہے اور معاشی طور پر تباہ کن اثرات پیدا کر رہی ہے۔“
”ایران سے اپیل ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں پر حملے بند کر دے۔ سلامتی کونسل نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور اہم سمندری راستوں بشمول آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کے حقوق کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔“
انہوں نے متنبہ کیا کہ مزید اضافہ صورتحال کو صرف بدتر بنائے گا۔ ”تنازعات خود بخود ختم نہیں ہوتے۔ وہ ختم ہوتے ہیں جب قائدین تباہی کی بجائے بات چیت کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ انتخاب اب بھی موجود ہے اور اسے ابھی کرنا ہوگا۔“
غٹریس نے عالمی اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی نیویگیشن متاثر ہوئی تو دنیا کے غریب ترین اور کمزور ترین لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

