خیبرپختونخوا حکومت کا 6 مئی کو قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان، وفاق پر امتیازی سلوک کے الزامات


پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے 6 مئی کو صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر امتیازی سلوک کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ، بجلی اور گیس کی فراہمی میں دانستہ طور پر امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات صوبے کے مالی اور توانائی کے حقوق کو متاثر کر رہے ہیں۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ذاتی معالجین کی نگرانی میں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، جسے انسانی حقوق کے تناظر میں تشویشناک قرار دیا گیا۔
صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان مطالبات کے حق میں 6 مئی کو سرکاری سطح پر قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی، جس کے تحت سرکاری دفاتر میں کام معطل رہے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت مرکز اور صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اس اعلان کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹ