کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
عیدِ قرباں قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں رونقیں عروج پر ہیں لیکن اس بار خریدار اور بیوپاری کے درمیان جانوروں سے زیادہ بحث اس بات پر چھڑی ہے کہ منڈی میں زیادہ بے زبان کون ہے؛ چار ٹانگوں والا معصوم جانور یا دو ٹانگوں پر کھڑی یہ پسی ہوئی عوام؟ ایک طرف مہنگائی کا وہ بے لگام طوفان ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تو دوسری طرف جانوروں کے دام دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے بیوپاری محض کوئی گوشت پوست کا جاندار نہیں، بلکہ کوئی نایاب اور بیش قیمت خزانہ بیچ رہے ہوں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، بجلی کے اندھے بلوں اور روزمرہ کی اشیاء پر لگے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی غریب کے لیے جب پورے مہینے کا راشن پورا کرنا ہی ایک معجزہ بن چکا ہے، ایسے میں چھوٹے سے جانور کی قیمت سن کر خریدار کو غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں اور اجتماعی قربانی کے ایک حصے کی قیمت بھی پچھلے سال کی نسبت دگنی ہو کر مڈل کلاس طبقے کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ بیوپاریوں کا اپنا رونا ہے کہ چارہ اور ونڈہ مہنگا ہو گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں صرف چارہ ہی مہنگا ہوا ہے، انسانوں کی ہڈیاں اور خون اتنے سستے کیوں ہو گئے ہیں؟ اس ساری معاشی جنگ کے بیچ جو سب سے کڑوی اور طنزیہ حقیقت سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس بے رحم نظام نے عام آدمی سے جانور قربان کرنے کی استطاعت تو بہت پہلے چھین لی تھی مگر اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ کل تک جو عوام منڈی میں خریدار بن کر جایا کرتی تھی، وہ آج خود حالات کی منڈی میں قربانی کا بکرا بنی ہوئی ہے۔ آخر ہر عید پر جانور تو سال میں صرف ایک بار ذبح ہوتے ہیں لیکن ہمارے معاشرے کا سفید پوش طبقہ روزانہ کی بنیاد پر حالات کی اس تیز چھری تلے کیوں ذبح ہو رہا ہے؟ حکومتیں جب بھی کوئی نیا معاشی پیکیج بناتی ہیں یا آئی ایم ایف کی کڑی شرطیں پوری کرتی ہیں تو اس کا سارا نزلہ ہمیشہ اسی غریب اور مڈل کلاس طبقے پر ہی کیوں گرتا ہے؟ بجلی کے بھاری بل، پٹرول کے جھٹکے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز پر لگا ہوا سیلز ٹیکس وہ چھریاں ہیں جو عوام کی جیب پر روز چلتی ہیں اور ہمارے مقتدر حلقے جب ٹھنڈے کمروں اور محفوظ محلات میں بیٹھ کر معیشت کی بہتری کے راگ الاپتے ہیں تو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ ان کے ایک دستخط سے غریب کے تن ڈھانپنے کا کپڑا اور دو وقت کا لقمہ بھی ٹیکس کے سنگین دائرے میں آ جاتا ہے۔ بڑے مگرمچھ، ٹیکس چور اور اشرافیہ تو اپنی وی آئی پی گاڑیوں اور پروٹوکول کے ساتھ بڑی آسانی سے بچ نکلتے ہیں لیکن جب بھی معیشت کا ڈوبتا ہوا پہیہ چلانے کے لیے کسی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمیشہ اسی پسی ہوئی عوام کو آگے کیوں کر دیا جاتا ہے؟ کیا یہ عوام اس ملک کے نظام کا بوجھ اٹھانے کے لیے پیدا ہوئی ہے یا صرف بڑے صاحببان کے محلات کی رونقیں برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے؟ ایک عام آدمی کو زندہ رہنے کے لیے اپنی معصوم خواہشات کا گلا روز گھونٹنا پڑتا ہے؛ بچوں کی اچھی تعلیم، بوڑھے ماں باپ کی دوائی اور دو وقت کی عزت کی روٹی پوری کرنے کی خاطر وہ اپنی عزتِ نفس، اپنے آرام اور اپنے خوابوں کی قربانی روزانہ دیتا ہے۔ منڈی کا بکرا تو چند منٹ کی تکلیف کے بعد آرام پا جاتا ہے لیکن یہ سفید پوش انسان زندگی کے ہر دن، ہر لمحے ایک نئی قربانی سے گزرتا ہے، اور اگر غور کیا جائے تو آج کے غریب اور منڈی میں کھڑے جانور کے مقدر میں کوئی خاص فرق نہیں رہا۔ جیسے بیوپاری جانور کی قیمت لگانے سے پہلے اس کے دانت چیک کرتا ہے اور اس کا وزن تولتا ہے، ویسے ہی یہ سرمایہ دارانہ نظام غریب کی مزدوری کا سودا کرنے سے پہلے اس کا خون نچوڑتا ہے، اور جیسے جانور بے زبان ہوتا ہے اور اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کر سکتا، ویسے ہی ہماری غریب عوام بھی حالات کے جبر کے آگے بے زبان ہو چکی ہے جو اندر ہی اندر کڑھتی ہے، روتی ہے لیکن اپنی غیرت کی وجہ سے چیخ نہیں سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح عید پر قربانی کا جانور دوسروں کو خوشی اور گوشت بانٹنے کے کام آتا ہے، اسی طرح یہ عوام بھی خود پس کر، خون پسینہ بہا کر اس ملک کے نظام کا پہیہ چلا رہی ہے اور حکمرانوں کے پروٹوکول کو رونق بخش رہی ہے۔ معاشرے کی یہ تلخ حقیقت اور سفید پوش طبقے کی یہ خاموش تڑپ حکمرانوں کے کھوکھلے دعووں اور عوام دوست نعروں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یاد رہے، عیدِ قربان کا اصل فلسفہ تو یہ تھا کہ ہم اپنی انا، اپنی نمود و نمائش اور اپنی مصلحتوں کو قربان کر کے اپنے سے جڑے انسانوں کے حقوق کا تحفظ کریں لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے جہاں غریب کو مٹایا جا رہا ہے اور حکمران طبقے کی عیاشیاں برقرار رکھی جا رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران طبقہ عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اپنے شاہانہ اخراجات، شاہ خرچیوں اور مفت پروٹوکول کی قربانی دے، معاشرے کے صاحبِ ثروت لوگ اپنے اردگرد پھیلے اس پوشیدہ کرب کا مداوا بنیں؛ اگر اللہ پاک نے آپ کو وسعت اور توفیق دی ہے اور آپ اس عید پر قربانی کر رہے ہیں تو اپنے آس پاس موجود ان سفید پوشوں اور مستحق لوگوں کا خاص خیال رکھیں جو اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے، قربانی کا گوشت صرف اپنے بڑے فریزر بھرنے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ان حقداروں تک پہنچائیں۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس عیدِ سعید کے صدقے ہمارے ملک و ملت پر اپنا خصوصی فضل و کرم نازل فرمائے، ہمارے سفید پوش بھائیوں کے بھرم اور عزتِ نفس کو قائم رکھے اور ہمیں دکھاوے سے پاک، خالص نیت کے ساتھ ایثار کا اصل جذبہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہماری ان ٹوٹی پھوٹی عبادات اور نیک نیتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے اور اس وطنِ عزیز کے ہر غریب گھر میں حقیقی خوشیاں، برکت اور خوشحالی لوٹا دے۔
آمین

