عیدِ قربان

IMG 20260531 WA1155

تحریر: آسیہ خٹک

ہر تہوار کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے اور ان تہواروں میں عیدین سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔

ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر فرما دیے ہیں:

1۔ عیدالفطر
2۔ عیدالاضحیٰ

عید رقص و سرود یا محض موج مستی کا نام نہیں بلکہ ایک دینی، مذہبی اور پاکیزہ تہوار ہے۔

عیدالفطر رمضان المبارک میں کی جانے والی عبادتوں کے بدلے اور انعام کا دن ہے۔ عیدالفطر کی رات کو لیلۃ الجائزہ اور عیدالفطر کے دن کو یوم الجوائز یعنی انعامات اور بدلے کا دن کہا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے مذہبی تہوار قرار دیتے ہوئے فرمایا:

"بے شک ہر قوم کے لیے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہماری عید کا دن ہے۔”

میں جب چھوٹی تھی تو مجھے عیدالفطر زیادہ پسند تھی۔ شاید سب بچوں کو ہوتی ہے۔ نئے کپڑے، نئے جوتے اور پھر عید کے دن تمام بڑوں سے عیدی ملنا بچوں کے لیے بڑی خوشی اور مسرت کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن اب عیدالاضحیٰ کا زیادہ انتظار رہتا ہے، کیونکہ اس عید پر ہم اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں۔

ہمارے گھر میں زیادہ تر قربانی کا جانور دس پندرہ دن پہلے لایا جاتا ہے۔ گھر کا ہر فرد، خواہ بڑا ہو یا بچہ، اس جانور کا خیال رکھتا ہے، اسے کھلاتا پلاتا ہے۔ مختصراً یہ کہ ہمیں اس جانور سے ایک خاص لگاؤ ہو جاتا ہے۔ پھر عید کے دن اسے اللہ کی راہ میں قربان ہوتے دیکھنا جہاں تکلیف کا باعث بنتا ہے، وہیں صحیح معنوں میں قربانی کا مطلب بھی سمجھ آتا ہے کہ کیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حضور قربان کرنے کے لیے پیش کر دیا تھا۔

عیدِ قربان ہمیں عفو و درگزر، مساوات اور بھائی چارے کا درس دیتی ہے۔ اس کا اصل مقصد جانوروں کا خون بہانا نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر تقویٰ اور جذبۂ اطاعت پیدا کرنا ہے۔

افسوس کہ عیدِ قربان تو گزر گئی، لیکن قربانی کا حقیقی مقصد، یعنی اپنی انا، خواہشات اور پسندیدہ ترین چیز کو اللہ کی رضا کے لیے نثار کرنا، ہم میں سے بہت سے لوگ نہیں سمجھ پاتے۔ لوگ جانور کی قربانی تو کر دیتے ہیں مگر دل میں موجود بغض، نفرت اور غرور کی قربانی نہیں کرتے۔

ہم تو گوشت کی تقسیم بھی صحیح طریقے سے نہیں کرتے۔ ہمیں گوشت کی تقسیم کا مستحب طریقہ بتایا گیا ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: ایک حصہ اپنے لیے، ایک رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کے لیے، اور ایک غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے۔

مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ گوشت کا زیادہ حصہ گھروں کے فریزر کی زینت بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ تر گوشت ان عزیزوں کے گھروں میں بھیج دیا جاتا ہے جنہوں نے خود بھی قربانی کی ہوتی ہے۔ غریبوں کا جو تھوڑا بہت حصہ نکلتا ہے، وہ ہم میں سے اکثر لوگ آسانی، جلد بازی یا ذمہ داری سے جان چھڑانے کی خاطر پیشہ ور مانگنے والوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

بعد ازاں یہی مانگنے والے اس گوشت کے بڑے بڑے تھیلے اونے پونے داموں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے مالکان کو فروخت کر دیتے ہیں، اور پھر چند دن بعد ہم خود وہی گوشت بھاری قیمت ادا کرکے انہی ہوٹلوں میں کھا رہے ہوتے ہیں۔

یہ گوشت کی تقسیم نہیں بلکہ ایک مقدس فریضے کا معاشی استحصال ہے، جس کی وجہ سے وہ طبقہ محروم رہ جاتا ہے جو حقیقتاً اس کا مستحق ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو نہ جانور کا خون پہنچتا ہے اور نہ گوشت، بلکہ ہماری نیت اور تقویٰ پہنچتا ہے۔ اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم گوشت کی تقسیم میں سستی نہ برتیں بلکہ اپنے آس پاس موجود غریب رشتہ داروں، کم تنخواہ والے ملازمین، چوکیداروں، خاکروبوں، ماسیوں، بیواؤں اور سفید پوش پڑوسیوں کے گھروں تک خود پہنچائیں۔

ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے۔ گوشت ضرور ہر مستحق اور سفید پوش خاندان تک پہنچائیں، لیکن اتنا ضرور دیں کہ اگر گھر میں پانچ چھ افراد ہیں تو وہ کم از کم ایک وقت کی ہانڈی پکا کر کھا سکیں۔ ایسا نہ ہو کہ چند بوٹیاں دے کر ہم اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیں اور وہ بیچارے یہ سوچتے رہ جائیں کہ اس تھوڑے سے گوشت کا کیا کریں۔

عیدِ قربان پر ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ صرف جانور ہی نہیں بلکہ اپنی انا، نفرتیں اور ناراضگیاں بھی اللہ کی رضا کے لیے قربان کریں۔ دل صاف کریں، رشتے جوڑیں، معاف کرنا سیکھیں اور اپنوں کو محبت سے گلے لگائیں۔

کیونکہ حقیقت میں یہی اصل قربانی ہے۔

متعلقہ پوسٹ