ایران کا امریکا پر سنگین الزام: لبنان حملوں میں اسرائیل کا "شریکِ جرم” قرار دے دیا

IMG 20260529 WA0933


تہران، 29 مئی 2026 — ایران نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں امریکہ کو اسرائیل کا "شریک جرم” قرار دیتے ہوئے سخت الزام عائد کیا ہے، جس سے خطے میں نازک جنگ بندی کے باوجود سفارتی تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ امریکہ لبنان میں اسرائیل کی تمام کارروائیوں میں مکمل طور پر اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ ترجمان نے سلامتی کونسل سمیت دیگر عالمی اداروں کی "بے حسی” کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے حسی اسرائیل کو خطے میں مزید جارحیت پر اکسا رہی ہے۔
"سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں کی بے حسی اسرائیل کو خطے میں مزید جارحیت پر اکسا رہی ہے،” ایرانی ترجمان نے کہا۔
"امریکہ تمام کارروائیوں میں مکمل طور پر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور سال کے شروع میں طے پانے والی نازک جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات موجود ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بھی جنگ بندی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے پر مشتمل ہونی چاہیے، کیونکہ حزب اللہ کو "محور مقاومت” کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
پس منظر
2026 کے اوائل سے خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان براہ راست تنازعات دیکھے گئے ہیں۔ شرطیہ جنگ بندی طے پانے کے باوجود لبنان کے معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ ایران اسرائیل کی لبنان میں جاری کارروائیوں کو وسیع تر معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اسے حزب اللہ کے خلاف علیحدہ سیکیورٹی معاملہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تہران کے ایسے بیانات عام طور پر سفارتی دباؤ، بین الاقوامی فورمز پر توجہ مبذول کرانے اور مقامی عوام کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان سمیت دیگر ثالث ممالک مستقل امن کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ