مسجد اقصیٰ کے امام شیخ ولید سیام انتقال کر گئے


القدس / بین الاقوامی ڈیسک
مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے ممتاز امام اور著 فلسطینی دینی رہنما شیخ ولید سیام جمعرات کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔
فلسطینی مذہبی ذرائع کے مطابق شیخ ولید سیام گزشتہ کئی برسوں سے بیماری میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مسجد اقصیٰ میں امامت، دینی تعلیم و تربیت اور عبادت گزاروں کی رہنمائی کے لیے وقف کیا۔ وہ القدس کی ایک اہم روحانی شخصیت تصور کیے جاتے تھے جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے روحانی ماحول کے تحفظ اور مقامی فلسطینی برادری کی دینی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کی وفات کی خبر پھیلتے ہی فلسطین، القدس اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ علماء، دینی ادارے اور سماجی شخصیات نے انہیں منکسر المزاج، علم دوست اور مسجد اقصیٰ سے گہری وابستگی رکھنے والی شخصیت قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔
شیخ ولید سیام کا انتقال ایسے وقت میں ہوا جب مسجد اقصیٰ خطے کی مذہبی اور سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی تفصیلات مذہبی حلقوں کی جانب سے بعد میں جاری کی جائیں گی۔
مسلمانوں نے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔

متعلقہ پوسٹ