ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر آج ڈیجیٹل دستخط ہونے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی بیشتر شرائط تسلیم کر لی ہیں جن میں تیل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنا اور منجمد اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی فوری رہائی شامل ہے۔
بدلے میں ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے گا۔ جوہری پروگرام پر امریکی مطالبات سے متعلق بات چیت 60 روز کے لیے مؤخر کر دی جائے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ابتدائی معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران تنازع سے مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ جب تک ایران اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اور آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہتی، رقم جاری نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اتوار تک معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، جس کے لیے جنیوا کو ممکنہ مقام کے طور پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
اسرائیل کو مذاکراتی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہوگا۔ عراقچی کے مطابق معاہدہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گا، تاہم اسرائیلی وزیر دفاع نے لبنانی سرزمین سے انخلا کے امکان کو مسترد کر دیا۔

