کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ: کارکردگی نہیں، سیاسی دباؤ لے ڈوبا

Starmar d


ایپسٹین فائلز، مقامی انتخابات میں شکست اور ریفارم یو کے کی بڑھتی مقبولیت — تین محاذوں پر گھرے لیبر لیڈر کو آخرکار قدم پیچھے ہٹانا پڑا
لندن — برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی رخصتی خراب معاشی کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے ان محاذوں کی وجہ سے ہوئی جن پر وہ بیک وقت لڑ رہے تھے۔
معیشت: کمزور نہیں، مگر عوام مطمئن نہیں
معاشی اعتبار سے اسٹارمر کی کارکردگی مکمل طور پر ناکام نہیں تھی۔ ان کے اقتدار کے پہلے سال میں افراط زر ۲.۲ فیصد سے بڑھ کر ۳.۸ فیصد ہوگیا تھا، تاہم ایران جنگ اور اس کے بعد کے حالات کے باوجود یہ ۲.۸ فیصد پر رکا رہا۔ انہوں نے جی ۷ ممالک میں سب سے تیز رفتار معیشت کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہ ہوسکا، مگر برطانوی معیشت گزشتہ بارہ مہینوں میں جی ۷ میں دوسرے نمبر پر رہی — جو ٹرمپ کے ٹیرف اور جنگی ماحول کے پیش نظر قابل ذکر کامیابی تھی۔
تین وجوہات جنہوں نے کرسی چھین لی
پہلی وجہ ایپسٹین فائلز ہیں۔ اگرچہ ان فائلوں میں اسٹارمر کا نام نہیں آیا، تاہم امریکہ میں برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کا نام سامنے آنے کے بعد اپوزیشن اور خود لیبر پارٹی میں ناراضگی کی لہر دوڑ گئی۔ عوامی مظاہرے ہوئے اور اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میکسوینی اور کمیونی کیشن ڈائریکٹر ٹم ایلن کو بھی استعفیٰ دینا پڑا۔
دوسری وجہ مقامی انتخابات میں بھاری شکست ہے۔ لیبر پارٹی کو ۱۴۹۶ کونسل سیٹوں اور ۱۴ کونسلوں کا نقصان اٹھانا پڑا — یہ اعداد و شمار پارٹی کی قیادت کے لیے سنگین انتباہ تھے۔
تیسری وجہ نائجل فراج کی ”ریفارم یو کے” کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ لیبر کو خدشہ ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو اگلے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کو بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
جانشین کون؟
گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم، جو گزشتہ ہفتے ضمنی پارلیمانی الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں، لیبر قیادت کی دوڑ میں سب سے آگے سمجھے جا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ستمبر تک حلف اٹھا سکتے ہیں۔
اسٹارمر نے پارٹی اراکین پارلیمان سے مشاورت کے بعد استعفے کا فیصلہ کیا، بادشاہ کو آگاہ کیا اور باقاعدہ اعلان کر دیا — جو اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی جمہوری روایات اب بھی مضبوط ہیں۔

متعلقہ پوسٹ