ایک ہی جنگ ۳۸ بار ختم کرنے پر ٹرمپ نوبیل امن انعام کے مستحق: ہنٹر بائیڈن کا طنز

hunterb 0307 d


سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق امن دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے ’’نامزد‘‘ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی طنزیہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جہاں صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
ہنٹر بائیڈن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’میں باضابطہ طور پر ڈونالڈ جے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرتا ہوں۔ تاریخ میں کوئی بھی صدر ایک ہی جنگ کو اتنی بار ختم نہیں کر سکا جتنی بار انہوں نے کی ہے۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور تہران کے درمیان کئی مرتبہ جنگ بندی ہوئی اور بالآخر ۱۷ جون ۲۰۲۶ء کو ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رہے۔ ۲۶ جون کو سنگاپور کے پرچم بردار ایک تجارتی جہاز کو دھماکا خیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے بالائی حصے کو نقصان پہنچا۔ اگلے ہی روز پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر بھی حملہ ہوا۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران کے اندر فضائی کارروائی کا حکم دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی ساحلی علاقوں میں میزائل ذخیرہ گاہوں، ڈرون لانچنگ مقامات اور ساحلی ریڈار نظام کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے الزام لگایا کہ امریکہ نے حال ہی میں طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی، اور جواب میں بھرپور جوابی حملے کیے۔
ہنٹر بائیڈن نے ٹرمپ کے اس دعوے کا مذاق اڑایا کہ انہوں نے آٹھ بڑی جنگیں رکوا کر یا ختم کروا کر لاکھوں جانیں بچائیں، اس لیے وہ نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں۔ چند ماہ قبل ٹرمپ نے کہا تھا: ’’وہ سمجھتے ہیں کہ آٹھ جنگیں کافی نہیں، حالانکہ کسی نے ایک بھی جنگ نہیں روکی۔ اصولی طور پر تو ہر جنگ روکنے پر نوبیل انعام ملنا چاہیے۔‘‘
اس پر ہنٹر بائیڈن نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’’ہمارے محترم لیڈر ایران کے ساتھ جنگ کو، سی این این کے مطابق، کم از کم ۳۸ مرتبہ ختم کر چکے ہیں۔ تاریخ میں کوئی صدر ایسا نہیں کر سکا، اور وہ ابھی مزید بار جنگ ختم کرنے والے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایسا ’’ریکارڈ‘‘ ہے جسے نوبیل کمیٹی کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے، اور آخر میں لکھا: ’’اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ!‘‘

متعلقہ پوسٹ