"دی اوڈیسی” کو بائیکاٹ کا سامنا، مغربی صحارا میں شوٹنگ اہم وجہ

odyesee d


صحارا انٹرنیشنل فلم فیسٹیول نے ہدایتکار کرسٹوفر نولن کی متوقع فلم "دی اوڈیسی” کے باضابطہ بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب معلوم ہوا کہ فلم کے کچھ مناظر متنازع علاقے مغربی صحارا کے شہر داخلہ میں فلمائے گئے ہیں۔
فلم "دی اوڈیسی” ایک تاریخی ڈراما ہے جس میں اداکارہ زینڈایا اور اداکار میٹ ڈیمن مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہ 17 جولائی کو دنیا بھر میں ریلیز کے لیے مقرر ہے۔ الجزائر میں قائم صحراوی مہاجر کیمپوں میں منعقد ہونے والے اس فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ نولن کا داخلہ کا انتخاب بین الاقوامی قانون اور صحراوی عوام کے اپنے علاقے و وسائل پر حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
فیسٹیول نے اپنے بیان میں کہا: "جب کرسٹوفر نولن پریمیئر کے ریڈ کارپیٹ پر قدم رکھیں گے تو وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر بھی قدم رکھ رہے ہوں گے۔” منتظمین نے عوام سے فلم کے عمومی بائیکاٹ کی اپیل بھی کی۔
واضح رہے کہ مغربی صحارا، جو معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ ہسپانوی کالونی ہے، 1975ء سے زیادہ تر مراکش کے زیرِ انتظام ہے، تاہم اقوام متحدہ اسے غیر خود مختار علاقہ تصور کرتا ہے۔ مراکش اور الجیریا کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ کے درمیان اس خطے کی خودمختاری پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔
فیسٹیول نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی نولن سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ان علاقوں کے مناظر شامل نہ کریں۔ ہسپانوی اداکار جاویئر بارڈیم نے بھی فیسٹیول کے بیان میں کہا کہ نولن کو صحراوی عوام کے خلاف مراکشی حکومت کے اقدامات کی تاریخ سمجھنی چاہیے۔ دوسری جانب مراکش کا مؤقف ہے کہ مغربی صحارا اس کی ریاست کا لازمی حصہ ہے، جبکہ پولیساریو فرنٹ ریفرنڈم کے ذریعے خودارادیت کے حق کا مطالبہ کرتا ہے۔

متعلقہ پوسٹ