یو اے ای نے دنیا کا پہلا مکمل طور پر مربوط اے آئی پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم متعارف کروا دیا

Inquilab 20260728 182000 0000 d


ابوظہبی — متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بدھ کو دنیا کا پہلا مکمل طور پر مربوط مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی عدالتی پلیٹ فارم متعارف کروا دیا، جسے حکام نے عدالتی عمل میں جدت لانے اور مقدمات کی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔
یو اے ای کے نائب صدر اور نائب وزیرِ اعظم شیخ منصور بن زاید آل نہیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”نئی عالمی کامیابی“ متحدہ عرب امارات کی اختراعی حکمتِ عملی اور تیز تر، موثر عدالتی نظام کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
حکومت کے مطابق یہ پلیٹ فارم عدالتی کارروائی کے متعدد مراحل میں اے آئی کو مربوط کرتا ہے: یہ کیس فائلوں اور قانونی دستاویزات کا خود کار جائزہ لے سکتا ہے، قوانین اور انتظامی فریم ورکس تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے، سابقہ عدالتی نظائر کو تیزی سے بازیافت اور موازنہ کرتا ہے، تجزیاتی قانونی رپورٹیں اور سفارشات تیار کرتا ہے اور مقدمات کے فیصلے کے عمل کو مختصر بناتا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ نظام ججوں کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ ان کے معاون کے طور پر، انسانی نگرانی کے تحت کام کرے گا اور حتمی فیصلے عدالت کے ذمہ دار حکام کے ہاتھ میں رہیں گے۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ اس کا نیا نظام اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس نے متعدد اے آئی کی افادیت کو ایک جامع عدالتی فریم ورک میں مربوط کیا ہے — جب کہ دنیا کے کئی ممالک میں عدالتوں نے مختلف اے آئی ایپلی کیشنز کو الگ الگ مرحلوں کے لیے اپنایا تھا، یو اے ای نے انہیں ایک ہی پلیٹ فارم میں یکجا کیا ہے۔
حکام کو توقع ہے کہ اس اقدام سے مقدمہ بازی کے وقت میں کمی، انتظامی اخراجات میں کمی، عدالتی فیصلوں میں تسلسل اور شفافیت میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی کارکردگی اور بروقت عدالتی فیصلے غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے یہ اقدام معاشی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم قانونی ماہرین نے حساس عدالتی معلومات کی حفاظت، اے آئی کی تجویز کردہ سفارشات میں شفافیت، اور الگورتھمک تعصب کے خطرات جیسے چیلنجز کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے زور دیا کہ تمام حتمی فیصلے ججز کے اختیار میں رہیں اور جواب دہی کے قانونی ضوابط واضح طور پر وضع کیے جائیں تاکہ انصاف کے معیار برقرار رہیں۔

متعلقہ پوسٹ