ٹرمپ کا ایران کے ساتھ گفتگو شروع ہونے کا دعویٰ، تہران کی تردید

americairan 4826 d


واشنگٹن/تہران — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک بار پھر ایران سے گفتگو شروع کرنے کا اعلان کیا، تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ دو الگ الگ معاہدے کرنا چاہتا ہے، جن میں ایک آبنائے ہرمز سے متعلق جبکہ دوسرا ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق ہوگا۔ وہائٹ ہاؤس واپسی کے دوران صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہا ہے اور یہ مذاکرات پیر کی شام سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جب چاہے کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اس دوران ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایران پر سب سے بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا: "میں ایران پر فوجی حملے کے بجائے اس کے ساتھ معاہدہ کرنا زیادہ پسند کروں گا۔ ہم ایران پر بھرپور حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔” انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی منظوری دی، کیونکہ خطے کے کئی ممالک — سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات — نے حملہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔
تہران کی تردید: "کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے”
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم آبنائے ہرمز سے عارضی محفوظ بحری راستہ قائم کرنے کے معاملے پر عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ بقائی کے مطابق یہ مذاکرات ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ نوعیت کے ہیں، اور عمان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ جانا بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی نہیں ہوگا کیونکہ جب تک امریکی جارحیت جاری رہے گی، صورتحال برقرار رہے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے بند نہیں ہوا بلکہ رواں سال فروری سے امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث اسے بند کیا گیا۔ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے سوال پر بقائی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نہ کسی امریکی وفد کی میزبانی کا منصوبہ ہے اور نہ ہی ایران کسی دوسرے ملک میں وفد بھیجنے والا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ چین سمیت کسی نئے ثالث کو شامل نہیں کیا گیا، البتہ قطر ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرتا ہے۔
امریکی فوج بدستور ہائی الرٹ
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق، ذرائع نے بتایا ہے کہ ٹرمپ کے اعلان کردہ مذاکرات میں امریکہ اور ایران کی توجہ بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بحال کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے پر مرکوز ہوگی۔ اس کے علاوہ خطے میں تمام حملے روکنے اور ایرانی تیل کی برآمدات بلا رکاوٹ بحال کرنے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق ثالثی کا کردار ادا کرنے والے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور دونوں فریق ۱۸ جون کو دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی نکات کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے پیر کو صدر ٹرمپ کے بیانات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج بدستور ہائی الرٹ ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ دشمن کی ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔
"دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا”: ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ جس یادداشت پر دستخط ہوئے وہ شوریٰ کونسل کی اجتماعی دانشمندی کا نتیجہ ہے اور مستقبل میں ایران کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یادداشت پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے دشمن کو اس کے وعدوں کا پابند بنانا ہوگا، اور اس سے ایران، خطے اور اتحادیوں کی سلامتی مزید مستحکم ہوگی۔

متعلقہ پوسٹ