وارسا: پولینڈ میں ایک بڑے سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ شہریوں کا طبی ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پولینڈ کے وزیرِ ڈیجیٹل امور کژیشتوف گاکوفسکی کے مطابق سائبر حملے میں ڈاکٹروں اور کلینکس کے زیرِ استعمال ایک بڑے آن لائن طبی ریکارڈ پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا گیا۔ متعلقہ کمپنی نے بھی تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ مریضوں کا ریکارڈ چوری ہونے کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق چوری کیے گئے ریکارڈز کو آپس میں جوڑا جا سکتا ہے، جس سے متاثرہ افراد کی ذاتی اور طبی معلومات کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حملہ تاوان وصول کرنے کے مقصد سے کیا گیا۔
پولینڈ کے سائبر سکیورٹی ادارے واقعے کی نوعیت اور محرکات کا تعین کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نے چوری شدہ معلومات کے تحفظ اور مزید نقصان کی روک تھام کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
وزیرِ ڈیجیٹل امور نے کہا کہ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ڈیٹا کسی دوسرے ملک سے چوری کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلیک میلنگ یا کسی قسم کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔

