فلسطینی صحافی مریم ابو دقہ کے آخری لمحات: اسرائیلی حملے میں موت کیسے ہوئی؟

397944 789646900


25 اگست 2025، صبح 9 بجکر 3 منٹ

اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کی آوازوں کے درمیان مریم ابو دقہ اپنی قریبی دوست، فلیٹ میٹ اور صحافی براء لافی کے ساتھ کافی کے اپنے قیمتی ذخیرے کو تھوڑا تھوڑا استعمال کر رہی ہیں۔

یہ اس نہ ختم ہونے والے قتل عام کے دوران ایک اور پیر کا دن ہے۔

 33 سالہ صحافی، جو انڈپینڈنٹ عربیہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے کام کرتی ہیں، جنوبی غزہ کے خان یونس میں جزوی طور پر تباہ شدہ اس عمارت میں بیٹھی ہیں جہاں وہ دیگر خواتین صحافیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے بلڈوزروں نے جنگ کے دوران کسی وقت دیوار کے ایک حصے کو توڑ دیا تھا، جسے عمارت کے مالکان نے ملبے، سیمنٹ اور پتھروں سے دوبارہ جوڑ دیا تھا۔ براء کے بقول اس لیے کمرہ ’تباہ حال اور بگڑی ہوئی حالت میں‘ ہے، لیکن فی الحال یہی ان کا گھر ہے۔

دونوں خواتین، جو کام کے لیے اپنے جذبے کے باعث ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں، ناصر ہسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریضوں سے متعلق اپنی تازہ مشترکہ رپورٹ پر بات کر رہی ہیں۔ یہ ہسپتال سڑک کے عین پار واقع ہے۔ انہوں نے اپنی دوست، کینیڈین فلسطینی ایمرجنسی نرس اور بین الاقوامی رضاکار امانڈا کا انٹرویو کیا تھا، جن کا اتفاق سے خاندانی نام بھی ناصر ہے۔

اسی دوران براء کی والدہ کا فون آتا ہے جو ان دونوں کی خیریت دریافت کر رہی ہیں۔ وہ انہیں یقین دلاتی ہیں کہ دونوں خیریت سے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مریم کئی ہفتوں سے خیریت سے نہیں ہیں۔ انہیں اپنے اکلوتے بچے، 14 سالہ غیث کی شدید یاد آتی ہے، جسے وہ گذشتہ سال غزہ سے متحدہ عرب امارات بھیجنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔ وہ اب بھی اپنی والدہ کی موت کا غم منا رہی ہیں، جو مئی 2024 میں بمباری کے دوران کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں، جس کی ایک وجہ علاج کی عدم دستیابی بھی تھی۔

ان کے والد، جنہیں جنگ سے پہلے مریم نے اپنا ایک گردہ عطیہ کیا تھا، بھی علیل تھے۔ اس خاندان نے بھی غزہ کے دیگر بے شمار خاندانوں کی طرح خان یونس میں اپنا گھر کھو دیا تھا، کئی بار جبری نقل مکانی کا سامنا کیا تھا اور بھوک کا مقابلہ کرتے ہوئے زندہ رہا تھا۔

موت سے گھری مریم نے اپنے بیٹے کے لیے ایک وصیت خفیہ طور پر براء کے پاس چھوڑ دی تھی۔ تین روز قبل انہوں نے انڈپینڈنٹ عربیہ کے اپنے ایڈیٹر ہادی تورفی کو ایک وائس نوٹ بھیجا تھا، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ شاید انہیں چوتھی بار نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے۔

ناصر ہسپتال کے عملے نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں کو نشانہ بنانے، گھیرنے اور محاصرے میں لینے کے ایک بار بار دہرائے جانے والے طریقہ کار کے بعد، اب ناصر ہسپتال اور اس کے اردگرد کا علاقہ اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔

وہ وائس نوٹ میں کہتی ہیں: ’مجھے امید ہے کہ آپ اب بھی مجھے ٹریک کر رہے ہیں، ہے نا؟‘ پھر گہری اور سینہ چیر دینے والی کھانسی کے دوران وہ کہتی ہیں: ’مجھے نہیں معلوم میں کہاں جاؤں۔ میرے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘ اس کے ساتھ ہی ان کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔

ہسپتال کے اندر امانڈا ناصر، جو کینیڈین طبی امدادی ادارے جی ایل آئی اے کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں، اس بات پر پریشان ہیں کہ انہیں اپنا کام چھوڑ کر ایک قافلے میں جانا پڑ رہا ہے۔ ناصر ہسپتال میں موجود تمام بین الاقوامی طبی کارکنوں کو گذشتہ رات بتایا گیا تھا کہ انہیں ہسپتال سے باہر صنفی بنیاد پر تشدد کے موضوع پر عالمی ادارۂ صحت کی لازمی تربیت میں شرکت کرنا ہوگی۔

لاشوں کے گلنے سڑنے کی بو سے بھرے تنگ وارڈز گنجائش سے کہیں زیادہ مریضوں سے بھری ہوئے ہیں، اس لیے کسی طبی کارکن کا ہسپتال سے باہر جانا غیر ضروری محسوس ہوتا ہے۔

وہ یاد کرتی ہیں: ’عام طور پر ہم کسی ایسے سبق کے ذریعے تربیت حاصل کر سکتے ہیں جو آن لائن دور بیٹھ کر کیا جا سکے۔ صنفی بنیاد پر تشدد بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ہم نسل کشی کے بیچ میں ہیں۔‘

جی ایل آئی اے کے ایک اور بین الاقوامی رضاکار، اینیستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر ٹریوس میلن بھی اسی طرح حیران ہیں۔ غزہ میں آج ان کا آخری دن ہے، تو انہیں اب یہ تربیت کیوں کرنا پڑ رہی ہے؟

انہوں نے بتایا: ’عام طور پر وہ چیزوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ہمیں جو بات عجیب لگی وہ یہ تھی کہ اچانک انہوں نے کہا، ارے! اب لازمی تربیت ہے۔‘

باہر ہسپتال کا صحن، جو اب خیموں کے ایک مصروف شہر میں تبدیل ہو چکا ہے، گرمیوں کی جھلسا دینے والی صبح کی تپش میں جاگ رہا ہے۔ 40 کلومیٹر طویل اس محصور علاقے میں اپنے تباہ شدہ گھروں سے فرار ہونے والے شہریوں نے ایک ایسے ہسپتال کے احاطے میں خیمے لگا لیے ہیں جسے بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔

یہاں زندگی کا ایک پورا نظام بن چکا ہے: مرکزی دروازے کے قریب لوگ دستیاب معمولی اشیا فروخت کر رہے ہیں، جن میں علی ابو لطیفہ بھی شامل ہیں۔

صحن کے اندر سب سے بڑا خیمہ لمبا ہے، جس کی چھت روشن نیلے ترپال سے ڈھکی ہوئی ہے اور جو احاطے کے مشرقی حصے کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا ہے۔ یہ صحافیوں کے لیے مختص ہے، جو خود بھی بے گھر ہو چکے ہیں اور عملاً یہیں رہتے ہیں۔

صبح 9 بجکر 45 منٹ

اس خیمے کے اندر 27 سالہ فری لانس صحافی عبداللہ العطار اور ویڈیو گرافر معاذ ابو طحہ اپنی ڈیوٹی کے وقفے کے دوران آرام کر رہے ہیں۔ عبداللہ اوپر منڈلاتے اسرائیلی نگرانی کرنے والے ڈرونز کی مسلسل گونج کے درمیان اونگھ رہے ہیں۔

گرمی سے بچنے کے لیے تجربہ کار ’غد ٹی وی‘ کے نمائندے ابراہیم قنن بھی یہاں موجود ہیں۔ 53 سالہ ابراہیم کو نوجوان صحافیوں میں بڑے پیمانے پر ایک باپ جیسی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

وہ روئٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری سے بات کر رہے ہیں۔ 49 سالہ چار بچوں کے والد حسام اس بات پر پریشان ہیں کہ شدید دھوپ ان کے کیمرے کو زیادہ گرم کر کے ہسپتال کی مشرقی جانب بیرونی سیڑھیوں سے ہونے والی لائیو کوریج میں خلل ڈال سکتی ہے۔ حسام کیمرہ درست کرنے کے لیے وہاں سے چلے جاتے ہیں، جبکہ ابراہیم سامنے ہی صبح 10 بجے کی براہِ راست نشریات کی تیاری کرتے ہیں۔ دونوں دوست ایک دوسرے کو الوداع کہتے ہیں۔

حسام سڑک پار کر کے ہسپتال کی مشرقی جانب بیرونی کنکریٹ کی ’ہنگامی‘ سیڑھیوں کی طرف جاتے ہیں۔ لکڑی کی چھت سے ڈھکی یہ جگہ رپورٹرز کے لیے براہِ راست رپورٹنگ، سگریٹ پینے یا بار بار بجلی جانے کے دوران موبائل فون کا سگنل حاصل کرنے کی معروف جگہ بن چکی ہے۔

اس سے ڈیڑھ ہفتہ قبل مریم کی کھینچی اور پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں حسام اپنے کیمرے کے پاس کھڑے دکھائی دیتے ہیں، جسے گرمی سے بچانے کے لیے سبز اور سفید جائے نماز سے ڈھانپا گیا تھا۔ مریم بھی زیادہ تر دن یہیں گزارتی تھیں، اپنی سوشل میڈیا پوسٹس دیکھنے اور رپورٹس بھیجنے میں مصروف رہتی تھیں۔

درحقیقت اسرائیلی نگرانی کی وہ فوٹیج، جو حملے سے چار روز قبل بنائی گئی تھی، میں بظاہر مریم کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دی انڈپینڈنٹ نے اس فوٹیج کے سکرین شاٹس حاصل کیے ہیں۔ سر جھکائے وہ اپنے فون پر جھکی ہوئی سیڑھیوں کے پاس کیمرے اور تپائی کے ساتھ بیٹھی دکھائی دیتی ہیں۔

اسرائیلی شہری رافیل حیون جو غزہ کی صورت حال پر نظر رکھتے ہیں، نے دی انڈپینڈنٹ کو ایک تصویر فراہم کی، تاہم اس نے اس کا سورس بتانے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تصویر میں حماس کا کیمرہ دکھائی دے رہا ہے جو فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ اسرائیلی فوج نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

تاہم روئٹرز نے بعد میں تصدیق کی کہ یہ کیمرہ خان یونس کی لائیو کوریج کے لیے استعمال ہو رہا تھا اور اسرائیلی فوج کو معلوم تھا کہ ناصر ہسپتال میں اس کی ٹیمیں کام کر رہی تھیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حملے سے قبل کے دنوں میں اس براہِ راست نشریات کے ذریعے جنوبی غزہ میں اسرائیلی فوج کے بلڈوزروں کی تباہ کاری کی فوٹیج نشر کی جا رہی تھی۔

صبح 10 بجکر 9 منٹ

حسام المصری کی اہلیہ ساماہر اپنے شوہر کو فون کرتی ہیں، جو سیڑھیوں پر اپنے کیمرے کے پاس کھڑے ہیں۔ وہ ابھی مہنگے داموں کچھ سبزیاں تلاش کر کے خریدنے میں کامیاب ہوئی ہیں، اس لیے انہیں اپنے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے لیے حسام کی ضرورت ہے۔

حسام کی آواز تھکی ہوئی اور بے جان محسوس ہوتی ہے۔ حال ہی میں ساماہر، جو اس محصور علاقے میں رحم کے کینسر سے لڑ رہی ہیں جہاں علاج کی سہولت موجود نہیں، کو خدشہ تھا کہ ان کے شوہر حد سے زیادہ مایوس ہو رہے ہیں۔

وہ دوبارہ مایوسی سے کہتے ہیں: ’میں صرف آرام کرنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ شہید ہو جاؤں تاکہ آخرکار آرام کر سکوں۔‘

ان کی گفتگو اچانک ختم ہو جاتی ہے۔ ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے اور فون منقطع ہو جاتا ہے۔

غد ٹی وی کے نمائندے ابراہیم قنن کمپلیکس کے مشرقی داخلی راستے کے پاس کھڑے لائیو کوریج کی تیاری کر رہے تھے کہ دو کان پھاڑ دینے والے دھماکوں نے آسمان کو چیر دیا۔

ایک گولہ ہسپتال کے شمالی حصے سے ٹکراتا ہے اور ’ٹائٹینک‘ کہلانے والے حصے کو چیر دیتا ہے۔ یہ آپریشن تھیٹر کے قریب بڑی کھڑکیوں سے گھرا ایک مشترکہ حصہ ہے، جہاں طبی کارکن آپریشنز کے درمیان آرام کرتے ہیں۔

دوسرا گولہ چوتھی منزل پر موجود مشرقی بیرونی سیڑھیوں کو چیرتا ہوا اندر جا گھستا ہے۔

ابراہیم اپنے کیمرے کے ویو فائنڈر سے سیڑھیوں میں تقریباً ایک میٹر چوڑا سوراخ دیکھ سکتے ہیں، عین اس جگہ جہاں چند لمحے قبل ان کے دوست حسام کھڑے تھے۔ ان کی جگہ راکھ اور دھول کا بادل ہے۔

ابراہیم فوراً قاہرہ میں غد ٹی وی کے مرکزی سٹوڈیو کو پیغام بھیجتے ہیں کہ وہ فوراً ان سے رابطہ کریں۔ وہ صدمے میں بار بار کہتے ہیں:’ہسپتال پر بمباری ہو رہی ہے۔‘

صحافی عبداللہ العطار اور معاذ ابو طحہ صحافیوں کے خیمے میں ہڑبڑا کر جاگتے ہیں۔ عبداللہ کے پاس مناسب جوتے پہننے کا بھی وقت نہیں ہوتا اور وہ معاذ کے ساتھ دھماکے کی سمت دوڑ پڑتے ہیں۔ ابراہیم راستے میں ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔

معاذ صرف ایک ہی لفظ دہرا پاتے ہیں: ’حسام، حسام، حسام۔‘

دھماکوں سے سامنے کی عمارتیں بھی لرز اٹھتی ہیں۔ براء اپنی پریس جیکٹ اٹھاتی ہیں اور مریم سے تیز، چپل پہنے ہوئے ہی فلیٹ سے باہر نکل جاتی ہیں۔ جاتے ہوئے وہ اپنی دوست کو، جو ابھی اپنی چیزیں سمیٹ رہی ہیں، آواز دیتی ہیں: ’میں تم سے پہلے نکل رہی ہوں، ٹھیک ہے؟‘

روئٹرز کے ایک اور کنٹریکٹر حاتم عمر بھی دھماکے کی جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں اور دونوں سمتوں میں جاتے ہجوم کی ویڈیو بنا رہے ہیں۔ بلیک بالٹی ہیٹ پہنے مڈل ایسٹ آئی کے سٹرنگر احمد ابو عزیز ہجوم کے درمیان سے ان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ وہ بھی اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہے ہیں۔

افراتفری میں صحافی انجانے میں دو گروپوں میں بٹ جاتے ہیں۔ حاتم، احمد، معاذ، مریم، فلسطین ٹی وی کے کیمرہ مین جمال بداح اور الجزیرہ کے ساتھ کام کرنے والے محمد سلامہ حسام کی لاش کی طرف جانے والی سیڑھیوں پر چڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دیگر افراد، جن میں محمد سلامہ کے چھوٹے بھائی ابراہیم، جو خود بھی صحافی ہیں اور براء شامل ہیں، ایمرجنسی روم کے گراؤنڈ فلور کے داخلی راستے کی ویڈیو بنا رہے ہیں۔

داخلی دروازے کے پاس اپنی دکان سے علی ابو لطیفہ دیکھتے ہیں کہ کمپلیکس میں رہنے والے بے گھر شہریوں کا ایک گروپ چوتھی منزل تک پہنچ چکا ہے اور چیخ رہا ہے: ’یہاں شہید ہیں، یہاں شہید ہیں!‘

وہ فوراً ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں تاکہ زخمیوں کو نیچے منتقل کیا جا سکے، یہ وہ کام ہے جو غزہ میں ہر شخص کو بارہا کرنا پڑا ہے۔

جب وہ وہاں پہنچتے ہیں تو بغیر آستین کی بنیان اور چپل پہنے ایک شخص نیچے موجود ہجوم کی طرف ایسی چیزیں بڑھا رہا ہوتا ہے جو بظاہر حسام کے تباہ شدہ کیمرے اور لائیو کوریج کے آلات کے باقیات ہیں۔

اسی افراتفری میں لوگوں کو اوپر اسرائیلی کواڈ کاپٹر نظر آتا ہے اور کوئی چیخ کر کہتا ہے۔ ’ایک اور طیارہ ہے، وہ دوبارہ بمباری کر سکتے ہیں، نیچے جاؤ!‘

ایک اور ممکنہ حملے کے خوف سے علی سیڑھیوں سے نیچے بھاگتے ہیں۔ راستے میں ان کی ملاقات اپنی پڑوسن اور دوست مریم سے ہوتی ہے، جو پوری توجہ سے رپورٹنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سفید دوپٹہ اور سیاہ کوٹ پہن رکھا ہے۔

مریم، حسب معمول، جائے وقوعہ پر پہنچنے والوں میں سب سے آگے ہیں۔

صبح 10 بجکر 10 منٹ سے 10 بجکر 16 منٹ تک

ناصر ہسپتال کے ڈائریکٹر نرسنگ ڈاکٹر محمد صقر ابھی ایک بہت بڑے دھماکے سے چونکے تھے، جسے وہ ’زلزلہ‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ ایک مختلف عمارت میں اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں اور یاسین عمارت کے شمالی اور مشرقی حصوں سے دھواں اٹھتا دیکھتے ہیں۔

یہ عمارت پورے ہسپتال کے تین اہم ترین شعبوں ایمرجنسی روم، آپریشن تھیٹر اور انتہائی نگہداشت کے یونٹ پر مشتمل ہے۔

وہ اپنے عملے کی خیریت معلوم کرنے کے لیے تیزی سے نکلتے ہیں۔

گراؤنڈ فلور کے استقبالیے میں داخل ہوتے ہوئے ان کی ملاقات اپنی ایک طالب علم ساجہ سے ہوتی ہے، جو خون میں لت پت چوتھی منزل سے لڑکھڑاتی ہوئی نیچے آ رہی ہیں۔ شمالی جانب ایک گولہ دیواروں کو چیرتا ہوا اندر داخل ہوا تھا، جس سے طبی کارکن زخمی ہو گئے جب وہ کام میں مصروف تھے۔

ساجہ کے سر پر چوٹ آئی۔ وہ خون سے لتھڑا اپنا لباس ڈائریکٹر نرسنگ کے حوالے کرتی ہیں، جو اسے نیچے لے جا کر منتظر صحافیوں اور دنیا کو دکھاتے ہیں۔

براء اور دیگر افراد اپنے موبائل سے ویڈیو بنا رہے ہیں جب ڈاکٹر صقر کیمرے کے سامنے آتے ہیں اور خون آلود لباس ہاتھ میں اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ خوف زدہ لہجے میں کہتے ہیں: ’یہ اس نرس کا لباس ہے جو آپریشن تھیٹر کے اندر انتظار کر رہی تھی۔ اسے نشانہ بنایا گیا۔‘

چند سو میٹر دور مقامی سول ڈیفنس کے ہیڈکوارٹر میں ایک ٹیم اپنی 24 گھنٹے کی شفٹ شروع کر رہی ہے۔ اس کی سربراہی بے خوف تجربہ کار امدادی کارکن اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ میجر رائد صقر کر رہے ہیں۔

وہ ایمبولینس ڈرائیوروں احمد سیام، باسم ابو نمر اور اسامہ مصباح کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں۔ ان کے ساتھ عماد الشاعر بھی شامل ہو جاتے ہیں، جو اپنی شفٹ ختم کر رہے تھے لیکن مدد کے لیے رک گئے۔

گروپ حملے کے پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں چوتھی منزل کی سیڑھیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ عماد کے علاوہ سب نے نمایاں نارنجی رنگ کی حفاظتی جیکٹیں پہن رکھی ہیں۔

وہ لاشوں کے اعضا جمع کرنا شروع کرتے ہیں۔ احمد بعد میں بتاتے ہیں کہ اعضا ’ہر طرف بکھرے ہوئے‘ تھے اور خون کا ایک تالاب بنا ہوا تھا۔

اب سیڑھیوں کی مختلف منزلوں پر 20 سے زیادہ افراد موجود ہیں جبکہ مزید لوگ گراؤنڈ فلور پر جمع ہیں۔ اس کارروائی کو براہِ راست اور کئی مختلف زاویوں سے فلمایا جا رہا ہے جبکہ دنیا کے کئی بڑے خبر رساں اداروں کے لیے صحافی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ واضح طور پر ایک مکمل امدادی کارروائی جاری ہے۔

روئٹرز کے حاتم عمر (جو پیشہ ورانہ طور پر حاتم خالد کے نام سے جانے جاتے ہیں) سرخ ٹی شرٹ اور جینز میں سیڑھیوں کی بالکل اوپری منزل پر محمد سلامہ کے ساتھ موجود ہیں۔

ان کے پیچھے دیواروں پر تیز رفتار دھماکے سے نکلنے والے چھروں کے نشانات موجود ہیں، جو دھماکے کے مقام سے آنسو کے قطروں جیسے نقش کی صورت میں باہر کی جانب پھیلے ہوئے ہیں۔

حاتم کے گلے میں سٹل کیمرہ لٹک رہا ہے۔ وہ بڑی مہارت سے ایک طرف واقعے کی تصاویر بناتے ہیں اور دوسری طرف اپنے موبائل سے خون آلود مناظر کی ویڈیو بناتے ہیں۔ ان کا کیمرہ محمد کو ریکارڈ کرتا ہے جب وہ سیڑھیوں سے مریم، احمد ابو عزیز، معاذ ابو طحہ اور حفاظتی ہیلمٹ پہنے سول ڈیفنس کے کارکن اسامہ مصباح کی طرف نیچے آنا شروع کرتے ہیں، جو ان سے ایک منزل نیچے موجود ہیں۔

وہ دوبارہ موبائل نکالتے ہیں اور امدادی کارکنوں کے قریب سے منظر ریکارڈ کے لیے احتیاط سے نیچے اترنا شروع کرتے ہیں۔

میجر صقر نیچے موجود اپنی ٹیم کو مزید لاشیں منتقل کرنے کے لیے باڈی بیگز لانے کے لیے کہتے ہیں۔

صبح 10 بجکر 17 منٹ

دو کان پھاڑ دینے والے دھماکے، جو اتنے قریب قریب ہوئے کہ ایک ہی آواز میں ضم ہو گئے، آسمان، فضا، آواز اور روشنی کو چیرتے ہوئے محسوس ہوئے۔

ابراہیم کی لائیو کوریج دھول، کنکریٹ، ٹوٹے ہوئے دھات کے ٹکڑوں اور لکڑی کے ٹکڑوں کے بادل میں ڈوب جاتی ہیں۔ وہ صدمے میں براہِ راست نشریات کے دوران ادھورے جملوں میں چیختے ہیں:’یا اللہ۔ سول ڈیفنس ختم ہو گیا۔ انہوں نے لوگوں کو مار دیا۔ سول ڈیفنس ختم ہو گیا۔‘

حاتم کا موبائل فون، جس سے ریکارڈنگ جاری رہتی ہے، دھماکے کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ نارنجی حفاظتی جیکٹ پہنے ایک بازو کا دھندلا سا عکس سکرین کے بائیں جانب نظر آتا ہے۔ آڈیو خوفناک حد تک خاموش ہے۔

پہلے دھماکے کو اب سات سے آٹھ منٹ گزر چکے ہیں، جو طبی کارکنوں، امدادی کارکنوں اور صحافیوں کے بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر جمع ہونے کے لیے کافی وقت تھا۔

جمال بداح کو ہوش آتا ہے لیکن وہ 30 سیکنڈ تک نہ کچھ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ درد اتنا شدید ہے کہ انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ ان کی ٹانگیں اڑ گئی ہیں۔

جب وہ بالآخر آنکھیں کھول پاتے ہیں تو مریم کو اپنے قدموں میں بے حرکت پڑا دیکھتے ہیں۔

محمد سلامہ کے سر کے پچھلے حصے پر چوٹ لگی ہے اور وہ قے کر رہے ہیں۔ ایک طرف احمد ابو عزیز کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے۔ قریب ہی معاذ ابو طحہ کے سر کا آدھا حصہ اڑ چکا ہے۔

جمال کسی سے بھی مدد کے لیے فریاد کرتے ہیں۔

پہلے امدادی کارکن احمد سیام، جو حواس باختہ ہیں اور ٹھیک طرح سے دیکھ یا سن نہیں پا رہے، یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی ٹیم کے ساتھی کہاں چلے گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’مجھے گھپ اندھیرا نظر آیا، دھماکوں کی آواز سنی، دھماکہ خیز مواد، لکڑی، کنکریٹ، لاشوں اور خون کی بو محسوس کی۔‘

حواس باختہ احمد اس چیز کے اوپر رینگتے ہوئے گزرتے ہیں جس کے بارے میں بعد میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان کے ساتھی عماد کی لاش تھی۔ اس وقت انہیں لگتا ہے کہ وہ خود کو محفوظ مقام کی طرف گھسیٹ رہے ہیں۔

دراصل، جب دھول چھٹتی ہے تو انہیں لائیو کوریج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ سیڑھیوں کے تباہ شدہ حصے سے آگے بڑھتے ہوئے چار منزلہ خلا کی طرف نکل رہے ہیں۔

’میں سیڑھیوں کی بلندی سے گرنے ہی والا تھا، اگر نیچے موجود ہجوم مجھے پیچھے ہٹنے کے لیے آوازیں نہ دے رہا ہوتا۔‘

ان کی آنکھوں میں چھروں کے ٹکڑے پیوست ہیں اور وہ دیکھ نہیں سکتے، درد ناقابل برداشت ہے۔ وہ اپنے ساتھیوں کو ان کے عرفی ناموں سے پکارتے ہیں: ’ابو محمود، ابو احمد، کہاں ہو؟ ابو احمد، کیا تم ٹھیک ہو؟‘

انہیں صرف ایک صحافی کی آواز سنائی دیتی ہے جو ان سے ذرا اوپر موجود تھا۔

’میں یہاں ہوں، میں تمہیں سن رہا ہوں۔‘

’پھر آواز غائب ہو گئی۔ میں نے اس سے پوچھا: ’تم کہاں ہو؟‘ لیکن آواز منقطع ہو گئی۔‘

گراؤنڈ فلور پر صحافی ابراہیم سلامہ صدمے میں اور زخمی ہیں۔ کنکریٹ کے ٹکڑے اور چھروں کی بارش ایمرجنسی شعبے پر ہوئی، جس سے اوپر اور نیچے موجود لوگ مارے گئے، جسمانی اعضا پورے علاقے میں بکھرے ہوئے تھے۔ ان کے ذہن میں پہلا اور واحد خیال اپنے بھائی محمد کا تھا، جسے انہوں نے ابھی اسی سیڑھیوں پر دیکھا تھا جو اب تباہ ہو چکی تھیں۔

احمد سیام ایک نوجوان کے ساتھ سیڑھیوں سے لڑکھڑاتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔

’میں نے ان سے پوچھا کہ ہم کس چیز پر چل رہے ہیں؟‘ انہوں نے جواب دیا: ’کسی چیز پر نہیں۔‘ لیکن مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ ہم جسمانی اعضا اور لاشوں کے اوپر قدم رکھ رہے تھے۔‘

اس تنگ جگہ میں ایک درجن سے زیادہ لاشیں موجود تھیں۔ میجر صقر بھی سیڑھیوں سے لڑکھڑاتے ہوئے نیچے آتے ہوئے دیکھے گئے، جہاں وہ خود کو ابتدائی طبی امداد دے رہے تھے۔ امدادی ٹیمیں دوبارہ اوپر جانے سے خوفزدہ تھیں کیونکہ خدشہ تھا کہ اسرائیل دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔

انڈپینڈنٹ عربیہ میں مریم کے ایک اور ایڈیٹر محمد غدور سالانہ چھٹی پر تھے جب ناصر ہسپتال پر دوہرے حملے کی خبر ان کے فون پر نمودار ہوئی۔

وہ لبنان میں اپنے خاندان کے افراد کی دیکھ بھال کر رہے تھے، کیونکہ اسرائیل، لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ کے ساتھ ایک اور جنگ میں مصروف تھا اور ملک کے جنوب میں ان کا آبائی گھر تباہ کر چکا تھا۔ چند روز قبل مریم نے انہیں پیغام بھیج کر خیریت دریافت کی تھی۔ وہ کئی دہائیوں سے جاری اسرائیلی حملوں کے دوران خاندان کی دیکھ بھال کے منفرد دباؤ کو بخوبی سمجھتی تھیں۔

محمد کو بڑھتی ہوئی گھبراہٹ کے ساتھ احساس ہوا کہ مریم ناصر ہسپتال میں رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا:’میں نے انہیں پیغامات بھیجنا شروع کیے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ میں پیغامات بھیج رہا تھا لیکن کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا۔‘

مریم سے رابطہ نہ ہونے اور کسی مصدقہ اطلاع کے بعد ہادی، جو اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف ہیں، بھی غصے اور بے چینی سے انہیں فون کر رہے تھے۔ انہوں نے غزہ شہر سے ایک اور رپورٹر کو بھیجا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا ہوا ہے۔

دونوں کسی معجزے کی دعا کر رہے تھے۔

ایمرجنسی روم زخمی اور خون بہاتے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے، جو مدد کے لیے پکار رہے تھے۔

گھبرائے ہوئے خاندان کے افراد اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کے لیے بے تاب تھے۔ ابراہیم اپنے بھائی محمد سلامہ کو تلاش کر رہے تھے اور انہیں یقین تھا کہ حملے میں وہ ضرور مارے گئے ہوں گے، لیکن وہ نہ ایمرجنسی روم میں تھے اور نہ مردہ خانے میں۔

براء کی اپنی پتلون اپنے ہی خون سے تر تھی اور وہ مریم کے بھائی کے ساتھ مریم کو تلاش کر رہی تھیں۔ لوگوں کی جانب سے اسرائیلی کواڈ کاپٹروں کے ’غیر معمولی طور پر قریب‘ منڈلانے کی تنبیہ کے باوجود، جس سے تیسرے حملے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، براء سیڑھیوں پر چڑھ گئیں تاکہ معلوم کر سکیں کہ کیا ہوا ہے۔

سیڑھیوں کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا اور لکڑی کی چھت کے تختے دھماکے سے اڑ چکے تھے۔

انہوں نے بتایا: ’سیڑھیاں خون سے بھری ہوئی تھیں، ہر طرف جسمانی اعضا اور گوشت کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔ جب میں چوتھی منزل پر پہنچی تو میری ملاقات دو نوجوانوں سے ہوئی۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا اور کہا، ’کیا آپ اپنی دوست کو تلاش کر رہی ہیں؟ ہم ابھی اسے شہید کی حیثیت سے نیچے لے کر آئے ہیں۔‘

’میں مکمل طور پر ٹوٹ گئی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہسپتال کے سامنے اپنی لائیو کوریج کی جگہ پر موجود ابراہیم قنن الغد ٹی وی کے سٹوڈیو سے التجا کرتے ہیں کہ انہیں جانے دیا جائے تاکہ وہ ان نوجوان صحافیوں کی دیکھ بھال کر سکیں، جنہیں وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

’میں خود کو سنبھال نہیں پا رہا تھا، میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ اور سب سے زیادہ تجربہ کار تھا۔‘

ایمرجنسی شعبے کے اندر انہیں براء اور دیگر لوگ بے قابو روتے ہوئے ملتے ہیں، جو اب بھی مریم کو تلاش کرنے میں ناکام تھے۔ ایک کونے میں حاتم عمر خون میں لت پت اور صدمے کی حالت میں تھے۔ جمال بداح کا ایک پاؤں کاٹ دیا گیا تھا اور انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ سے باہر لے جایا جا رہا تھا۔

ہر طرف لاشیں تھیں۔ ایک عینی شاہد نے بعد میں اس کمرے کو ’قیامت کے دن کا منظر‘ قرار دیا۔

شمال مغربی کونے میں ابراہیم نے ایک بے یار و مددگار لاش دیکھی، جسے ہسپتال کی چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔

’میں نے ایک ڈاکٹر سے پوچھا، کیا چادر کے نیچے ایک خاتون موجود ہیں؟‘

ڈاکٹر کے سر ہلانے پر ابراہیم کا دل ڈوب گیا اور انہوں نے اس کا چہرہ دیکھنے کے لیے چادر ہٹانے کی اجازت مانگی۔

وہ مریم تھیں۔

’سوچیے، ایک ایسا شخص جس سے آپ 24 گھنٹے بات کرتے رہے ہوں، ایک دوست، جو صرف چند منٹ پہلے آپ کے سامنے کھڑا تھا… مر چکا ہو۔‘

ہسپتال سے تقریباً 20 منٹ کی مسافت پر ہونے والی صنفی بنیاد پر تشدد کی تربیت کے دوران بین الاقوامی طبی کارکنوں کو خبر ملتی ہے کہ ان سب کے لیے وہاں سے نکلنا لازمی قرار دیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ناصر ہسپتال پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے میں کم از کم 22 افراد جان سے گئے، جن میں پانچ صحافی اور پانچ امدادی کارکن و طبی کارکن شامل تھے۔

امانڈا کہتی ہیں: ’جب مجھے معلوم ہوا کہ مریم بھی ان میں شامل ہیں تو میں بالکل ٹوٹ گئی۔ میں بار بار کہتی رہی، نہیں، ہمیں ابھی ہسپتال واپس جانا ہوگا۔‘

لیکن تربیت کے منتظمین نے فیصلہ کیا کہ غیر ملکیوں کے لیے اس رات واپس جانا بہت خطرناک ہے۔ شاید انہیں ایک اور حملے کا خدشہ تھا یا شاید انہیں یہ فکر تھی کہ مقامی برادری یہ سمجھ سکتی ہے کہ بین الاقوامی کارکنوں کو پہلے سے علم تھا اور وہ جان بوجھ کر وہاں سے نکل گئے تھے۔

’میں ایک گھنٹے تک مسلسل روتی رہی۔ میں جذبات، خوف اور غصے سے بہت مغلوب تھی۔‘

’یہ بالکل واضح ہے کہ کیا ہوا، ہمیں ہسپتال سے باہر کیوں نکالا گیا تاکہ ہسپتال پر حملہ کیا جا سکے۔ ایسا محسوس ہوا جیسے یہ ایک انتباہ تھا: وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ بین الاقوامی رضاکاروں کی نقل و حرکت کو کشیدگی سے بچاؤ کے طریقۂ کار کے تحت اسرائیلی فوج کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے بقول فوج کو ضرور معلوم ہوگا۔

’وہ ہماری ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔‘

دنیا نے براہ راست دیکھا کہ اسرائیل نے دن دہاڑے ایک ہسپتال میں صحافیوں، امدادی کارکنوں اور ڈاکٹروں پر دوہرا حملہ کیا۔ اگرچہ عالمی برادری غزہ میں جاری قتل عام سے بے حس ہو چکی تھی، پھر بھی اس واقعے پر شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

اسرائیلی فوج نے ابتدا میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وہ ایک اور تحقیقات شروع کر رہی ہے اور مزید کہا کہ اسے ’غیر متعلقہ افراد کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر افسوس ہے‘ اور یہ کہ وہ ’بطور صحافی کسی کو نشانہ نہیں بناتی۔‘

اسرائیلی وزیراعظم بن  یامین نتن یاہو، جن کے خلاف جنگی جرائم، بشمول انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ موجود ہے، نے اسے ’ایک افسوس ناک غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل ’صحافیوں، طبی عملے اور تمام شہریوں کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔‘ (نیتن یاہو اپنے خلاف الزامات کی تردید کرتے ہیں۔)

لیکن جیسا کہ ابراہیم قنن نے کہا: مریم کا ’قتل لائیو کوریج کے دوران ہوا اور پوری دنیا نے اسے دیکھا۔‘

دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد اسرائیل کے پیش کردہ مؤقف سے مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں کہا کہ اس کی ایلیٹ انفنٹری بریگیڈز میں سے ایک گولانی بریگیڈ نے ایک ایسے کیمرے کی نشاندہی کی تھی ’جسے حماس نے فوجیوں کی نگرانی کے لیے وہاں نصب کیا تھا۔‘

لیکن ایک بار پھر روئٹرز نے تصدیق کی کہ یہ ان کی لائیو کوریج کی جگہ تھی، جس کی تصدیق نصف درجن صحافیوں، مقامی برادری کے دو افراد اور ہسپتال میں کام کرنے والے بین الاقوامی طبی کارکنوں نے بھی دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کی۔

 حملے سے چند روز قبل مریم نے خود کیمرے کی ایک تصویر کھینچ کر پوسٹ کی تھی، جسے دعائیہ چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔ روئٹرز نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو معلوم تھا کہ ان کی ٹیمیں ہسپتال کے اندر موجود تھیں۔

نرسنگ کے سربراہ ڈاکٹر صقر نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اسرائیل ہسپتال کے عملے سے براہ راست رابطے میں تھا اور کیمرے سے متعلق کسی بھی مسئلے کو باآسانی اٹھا سکتا تھا۔

’وہ ہماری تعداد سے واقف ہیں۔ اگر انہیں کسی بھی چیز پر اعتراض ہوتا تو وہ ہم سے رابطہ کرتے، جیسا کہ وہ عام طور پر کرتے ہیں، اور ہم اس مسئلے کو حل کر دیتے جس سے انہیں پریشانی ہوتی۔‘

اسرائیلی فوج نے ان چھ افراد کے نام جاری کیے جنہیں اس نے ہسپتال پر ہونے والے حملوں میں مرنے والے ’دہشت گرد‘ قرار دیا۔

فوج کی جانب سے جاری کردہ ناموں میں ’عمر ابو تیم‘ بھی شامل تھے، لیکن حماس کے زیر انتظام غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ 25 اگست 2025 کو ناصر ہسپتال پر ہونے والے حملے میں جان سے نہیں گئے تھے۔ دی انڈپینڈنٹ نے الثوابتہ سے رابطہ کیا لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج نے عماد الشاعر کو بھی ان افراد کی فہرست میں شامل کیا جنہیں اس نے ہسپتال میں جان سے جانے والے افراد میں ’دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔ سول ڈیفنس ٹیم کے متعدد ارکان نے بتایا تھا کہ عماد جائے وقوعہ پر امدادی کارروائی میں مصروف تھے۔

دی انڈپینڈنٹ نے بھی متعدد ویڈیوز میں انہیں امدادی کارروائی میں واضح طور پر مدد کرتے ہوئے شناخت کیا۔ دوسرے حملے کے بعد کی فوٹیج میں ان کی لاش چوتھی منزل پر اس کنارے سے لٹکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جہاں وہ کام کر رہے تھے۔

ناصر ہسپتال کے اپنے فیس بک اکاؤنٹ نے اسرائیل کی جانب سے نامزد کیے گئے تیسرے فرد کو ہسپتال کا کارکن قرار دیا۔

روئٹرز نے کہا کہ اس نے فہرست میں شامل دیگر دو افراد کے اہل خانہ سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں مریضوں سے ملنے آئے تھے اور دوسرے حملے میں اپنی موت کے وقت تک امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے تھے۔ دی انڈپینڈنٹ ان اہل خانہ کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

دی انڈپینڈنٹ نے حملے کے مقام پر موجود سات عینی شاہدین سے بات کی، جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے پہلے حملے کے فوراً بعد علاقے کے اوپر نگرانی کرنے والے ڈرونز کو پرواز کرتے دیکھا تھا۔ فری لانس صحافی خالد شعث، جن کا دی انڈپینڈنٹ نے انٹرویو کیا، نے پہلے حملے کے چند ہی منٹ بعد ان میں سے ایک ڈرون کی ویڈیو بنائی تھی۔

دی انڈپینڈنٹ سے بات کرنے والے تمام افراد نے محسوس کیا کہ جب لوگ مدد اور رپورٹنگ کے لیے سیڑھیوں پر جمع ہوئے تو ان پر بہت قریب سے نظر رکھی جا رہی تھی۔

دی انڈپینڈنٹ نے دو اسرائیلی مخبرین سے بھی بات کی، جو دونوں ریزرو فوجی تھے اور جنوبی غزہ میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ ان میں سے ایک، جو ٹینک یونٹ میں تعینات رہا تھا، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ حملے کی نوعیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف ’جان بوجھ کر‘ کیا گیا تھا بلکہ ’یہ کسی بہت باقاعدہ منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔‘

دونوں نے بتایا کہ کیمرے کو نشانہ بنانا ’معمول کا طریقۂ کار‘ تھا اور اس کے لیے اضافی اجازت درکار نہیں ہوتی تھی، لیکن کسی ہسپتال پر متعدد بار فائرنگ کے لیے سدرن کمانڈ سے بٹالین کی سطح یا اس سے اوپر کی منظوری درکار ہوتی۔ پہلے مخبر نے کہا: ’اس ہدف اور فائرنگ کے اس مخصوص طریقے کے انتخاب کے لیے فیصلہ سازی کے عمل میں بہت سے لوگوں کا شامل ہونا ضروری ہوگا۔‘

اس شخص نے کہا کہ پہلے حملے کے تقریباً 10 منٹ بعد ’دو ٹینک گولوں کے خصوصی فائرنگ طریقے‘ کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ’انہوں نے یقینی طور پر ہجوم کو دیکھا تھا،‘ جس سے یہ یقین مزید مضبوط ہوتا ہے کہ یہ ایک جان بوجھ کر کیا گیا دوہرا حملہ تھا۔

اس شخص نے مزید کہا: ’ایک گولہ پناہ گاہ کو توڑنے کے لیے ہوتا ہے، دوسرا لوگوں کو مارنے کے لیے۔‘ ان کے مطابق زیادہ سے زیادہ انسانی نقصان پہنچانے کے لیے یہ معمول کا طریقۂ کار ہے۔ مخبر نے مزید بتایا کہ جب ٹینک فائر کرتے ہیں تو گولہ چلانے والے کی دوربین کے ذریعے براہ راست ہدف کو دیکھا جاتا ہے۔

اس مخبر نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب کچھ ایک ایسی ’ثقافت‘ کا حصہ تھا جو ’سب سے زیادہ مہلک نتیجے‘ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

اس شخص نے کہا: ’یہ کوئی غلطی نہیں ہے، پورا ماحول کوئی غلطی نہیں ہے۔ یہ ہمارے حکومت کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ایک دانستہ طریقہ ہے۔ جس نے ہر چیز کو دھندلا، انتہائی الجھا ہوا، زیادہ افراتفری کا شکار اور زیادہ مہلک بنا دیا ہے۔‘

یہ خاص طور پر خان یونس میں ہوا، جہاں یہ ٹینک افسر تعینات تھا۔ اس کے بقول اسرائیلی فوج نے انہیں ’اتنے طویل عرصے تک‘ وہاں بغیر کسی واضح مشن کے صرف اس لیے رکھا کہ ’اس طرح کی افراتفری پیدا کی جا سکے۔‘

دوسرے مخبر نے کہا کہ نہ صرف ’ٹرگر دبانے میں معمولی سی بھی ہچکچاہٹ نہیں تھی‘ بلکہ ’سرے سے کوئی جواب دہی موجود ہی نہیں تھی۔‘

حملے کی ایک وسیع زاویے سے بنائی گئی کیمرہ فوٹیج کے ایک فریز فریم میں دو گولے بہت تیزی سے یکے بعد دیگرے ٹکراتے دکھائی دیتے ہیں، جو اتنے کم وقفے سے آئے کہ یہ ایک ہی ٹینک کی فائرنگ نہیں ہو سکتی۔ ایک بار پھر یہ کسی مربوط کارروائی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

Earshot نامی ایک غیر سرکاری تنظیم، جو انسانی حقوق کی وکالت کے لیے صوتی تحقیقات کرتی ہے، نے گہرا صوتی تجزیہ کیا اور مریم کی موت کا باعث بننے والے دوسرے حملے کی کم از کم پانچ کیمروں سے بنائی گئی فوٹیج کو ملا کر اس کا جائزہ لیا۔

Earshot کے بانی لارنس ابو حمدان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ ممکنہ طور پر 120 ملی میٹر ایم 329 ٹینک گولہ تھا، جو ایلبٹ سسٹمز نے تیار کیا تھا۔ ان کے مطابق ان میں سے ایک کو اینٹی پرسنل موڈ پر سیٹ کیا گیا تھا، جس میں چھ ذیلی گولے یا چھوٹے بم شامل ہوتے ہیں، ’جو ایک طرح کا مہلک دھماکہ خیز علاقہ پیدا کرتے ہیں۔‘

آواز، گولوں کے پرواز کے راستے اور دھماکے کے مقام اور گولہ فائر ہونے کی آواز کے درمیان فاصلے کے تجزیے سے وہ ٹینک کی فائرنگ کی جگہ کا اندازہ لگانے میں کامیاب ہوئے یعنی ہسپتال سے شمال مشرق میں 2.5 کلومیٹر کے فاصلے پر۔

دی انڈپینڈنٹ نے 25 اگست 2025 کو پلینٹ لیبز کی فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا، جن میں ہسپتال سے 2.5 کلومیٹر شمال میں مٹی کے حفاظتی پشتوں سمیت ایک ٹینک اڈا موجود دکھائی دیا۔ وہاں متعدد ٹینک موجود تھے۔

دی انڈپینڈنٹ نے ہتھیاروں کے دو دیگر ماہرین کرس کوب سمتھ اور آرمامنٹ ریسرچ سروسز کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز سے بھی انٹرویو کیا۔ دونوں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے ان ٹکڑوں کی شناخت کی، جن کی تصاویر ایسوسی ایٹڈ پریس نے شائع کی تھیں اور نتیجہ اخذ کیا کہ وہ اسرائیلی 120 ملی میٹر ٹینک گولے کے حصے تھے۔

این آر جینزن جونز نے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج ’ہائی ایکسپلوزو‘ یا ’ملٹی پرپز‘ گولوں کے استعمال کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جیسا کہ عمارتوں میں موجود افراد کو ٹینک کی گولہ باری سے نشانہ بنانے کی صورت میں توقع کی جاتی ہے۔‘

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے سینٹر فار ملٹری سٹڈیز میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر کیون جون ہیلر نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ایک استغاثہ ’معقول طور پر یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے‘ کہ حملہ آوروں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں ’جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانا اور غیر متناسب حملہ کرنا، خاص طور پر دوسرے حملے کے حوالے سے‘ شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ’مثال کے طور پر ہسپتال کو خبردار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ہسپتال کو خبردار کرنا اور مبینہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب وقت دینا ایک واضح ذمہ داری ہے۔‘

تناسب بھی ایک مسئلہ تھا کیونکہ اسرائیل کے مبینہ مقصد، یعنی کیمرے کو تباہ کرنے سے حاصل ہونے والا معمولی فوجی فائدہ، دوہرے حملے میں ہونے والے بڑے پیمانے پر شہری نقصان کے مقابلے میں انتہائی کم تھا۔

انہوں نے سوال کیا: ’کیا واقعی ایک کیمرہ تباہ کرنے کے لیے دو ہائی ایکسپلوزو ٹینک گولوں کی ضرورت ہے؟‘

اور یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے مطابق اسرائیل نے 2023 سے اب تک 200 سے زائد فلسطینی میڈیا کارکنوں کو قتل کیا ہے، جو 1992 میں اعداد و شمار جمع کرنے کا آغاز کرنے کے بعد سے کسی بھی دوسری حکومت کے ہاتھوں جان سے جانے والے صحافیوں سے زیادہ ہیں۔

سی پی جے نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے صحافیوں کے خلاف بدنام کرنے کی مہمات چلائی ہیں، انہیں عسکریت پسند قرار دیا ہے، جیسے الجزیرہ کے صحافی انس الشریف، جنہیں ناصر ہسپتال پر حملے سے چند ہفتے قبل ایک ہدف بنا کر کیے گئے حملے میں قتل کیا گیا تھا، تاکہ ’انہیں قتل کرنے کے لیے رضامندی پیدا کی جا سکے۔‘

سی پی جے نے کہا: ’پریس کو خاموش کر کے اسرائیل ان لوگوں کو خاموش کر رہا ہے جو انسانی حقوق کے گروہوں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کے متفقہ مؤقف کے مطابق جاری نسل کشی کو دستاویزی شکل دیتے اور اس کے گواہ بنتے ہیں۔‘

دی انڈپینڈنٹ کو گذشتہ برسوں کے دوران متعدد بیانات میں اسرائیلی فوج نے بارہا اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ صحافیوں کو نشانہ بناتی ہے یا اس کے فوجیوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے یا اس کی کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے بھی اسی طرح کی تردید کی ہے۔

 

لیکن فلسطینیوں کے صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا کہ ناصر ہسپتال میں دوہرے حملے میں ہونے والی اموات ’صحافیوں کو نشانہ بنانے اور قتل کرنے‘ کے اس طرزِ عمل کا حصہ ہیں جو ’فلسطینی صحافیوں کو ہر ممکن طریقے سے خاموش کروانے کے واضح ارادے‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’اپنی آئندہ رپورٹ کے لیے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات مضبوطی سے سامنے آتی ہے کہ صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ جاری نسل کشی کے تناظر میں فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی رپورٹنگ نہ کر سکیں۔

’اسرائیلی رہنماؤں اور فوجیوں کے ایسے بیانات موجود ہیں جن میں صحافیوں کی آواز کو ہتھیار اور خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

’تنازع کے دوران صحافیوں کا تحفظ ضروری ہے۔ لیکن غزہ میں فلسطینی صحافی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لیے پریس جیکٹ پہننا انہیں جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے اپنی تمام تحقیقات اور نتائج اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کیے اور ہر نکتے پر تبصرہ طلب کیا۔ فوج نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے صرف یہ کہا کہ ’’جنرل اسٹاف کے حقائق جانچنے اور جائزہ لینے کے طریقۂ کار کے تحت تحقیقات ابھی جاری ہیں۔‘‘

ایک سال گزرنے کے باوجود مریم یا ان دیگر افراد کے لیے کوئی انصاف نہیں ہوا جن کی زندگیاں چھین لی گئیں۔

سی پی جے جن صحافیوں کے قتل کے طور پر درجہ بندی کر چکی ہے، ان میں سے کسی کے قتل پر کسی کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔ مریم کے خاندان کو کوئی جواب نہیں ملا اور نہ ہی غزہ میں جاری قتل عام کا خاتمہ ہوا، جو ایک رسمی جنگ بندی کے باوجود جاری ہے۔

اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ غزہ میں زندہ بچ جانے والے صحافی اگلے نشانے پر نہیں ہوں گے۔

مریم کی دوست براء، جنہیں مریم کی وصیت ان کے تباہ حال نوعمر بیٹے تک پہنچانا پڑی، کہتی ہیں: ’جو لوگ انہیں نہیں جانتے تھے، ان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ صرف ایک صحافی نہیں بلکہ انتہائی گہری اور حقیقی انسان تھیں۔

’مریم جس بھی کہانی کی رپورٹنگ کے لیے جاتی تھیں، وہ اسے جھیلنے والے لوگوں کا درد محسوس کرتی تھیں۔ وہ ایسی شخصیت تھیں جنہیں الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہر وہ شخص جو انہیں جانتا تھا، خواہ نوجوان ہو یا عمر رسیدہ، ان سے محبت کرتا تھا۔ وہ ہم سب میں سب سے بہترین تھیں۔‘

اضافی رپورٹنگ: ماتان کوہن اور دعاء الشیخ عید





Source link

متعلقہ پوسٹ