پزشکیان کا ٹرمپ سے ہلچل پیدا کرنے سے گریز کرنے کا مطالبہ، مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور


ایرانی صدر کا اسرائیل پر مسلم ممالک میں پھوٹ ڈالنے کا الزام، وسیع تر اسلامی اتحاد کا مطالبہ
تہران/واشنگٹن: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ ہلچل اور انتشار پیدا کرنے والی باتوں سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کو مذاکرات اور باہمی یادداشتِ مفاہمت (MoU) کے نفاذ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا: ’’اگر ہم بات چیت کے ذریعے اور یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر آگے بڑھیں، تو ہم مسائل حل کر لیں گے اور اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ’’ٹرمپ انتشار پیدا نہ کریں اور اسرائیل بدامنی اور جارحیت کا سبب نہ بنے۔‘‘
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی حملے کا سختی سے جواب دے گا، اور کوئی بھی طاقت ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اسرائیل پر مسلم ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وسیع تر اسلامی اتحاد کا مطالبہ کیا۔ اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے آنے والی سردیوں کے دوران صنعتی پیداوار برقرار رکھنے کو ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیا اور وعدہ کیا کہ گیس، بجلی یا پانی پر کسی بھی پابندی کا اطلاق عوام کے بجائے پہلے سرکاری دفاتر پر کیا جائے گا۔
ایران سفارت کاری کے لیے اب بھی تیار
جنگ کے چھ ماہ گزرنے کے بعد ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے لیے اب بھی تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن اپنی دباؤ کی مہم ترک کر دے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا: ’’سفارت کاری کو دوبارہ پٹری پر لانا ناممکن نہیں ہے۔ اس کا انحصار امریکہ کی جانب سے ایک سادہ سی حقیقت سمجھنے پر ہے: دباؤ کام نہیں کرتا۔‘‘ انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اعتماد بحال کرے، احترام سے بات کرے، ایران کے حقوق تسلیم کرے اور وعدوں کو نبھائے۔ عمان اور پاکستان کے ساتھ ایک ہفتے کے مذاکرات کے بعد عراقچی نے جمعرات کو تہران میں اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں آبنائے ہرمز پر تبادلہ خیال کیا گیا — جسے ایران نے جنگ کے آغاز میں بند کر دیا تھا۔
امریکی پابندیوں سے ایرانی معیشت کو نقصان کا اعتراف
ایک نمایاں تبدیلی کے تحت پزشکیان نے جمعہ کو سرکاری ٹی وی کے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ امریکی پابندیاں ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ اصرار کرتے آئے تھے کہ ان کا کوئی اثر نہیں۔ انہوں نے کہا: ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا؛ ان سے مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔ ہم جنگ کی حالت میں ہیں اور ہمیں ان جنگی حالات کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘ یہ بیان امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران کے ’’معاشی گلا گھونٹنے‘‘ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کرنے اور امریکی مہم میں شامل نہ ہونے والے ممالک کو نتائج کی دھمکی دینے کے چند دن بعد سامنے آیا۔
ایرانی کابینہ نے سنیچر کے روز امریکہ کی عائد کردہ ’’غیر منصفانہ پابندیوں‘‘ اور ’’سازشوں‘‘ کے خلاف مزاحمت کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سفارت کاری کی رہنمائی ’’عزت، حکمت اور مصلحت‘‘ کے اصولوں پر ہوگی، جبکہ وہ ’’امریکی-صیہونی تکبر‘‘ کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔

متعلقہ پوسٹ