تل ابیب (بین الاقوامی ڈیسک) — اس انکشاف کے بعد کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو حماس کے حملے کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اسرائیلی اپوزیشن جماعتیں ان پر شدید برہم ہو گئی ہیں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نے اپنے صحافیوں کی زیرِ اشاعت کتاب کے ایک اقتباس کی بنیاد پر رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے سے قبل نتن یاہو کو خبردار کر دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان نے حملے سے ڈیڑھ ہفتہ قبل نتن یاہو سے بات کی اور انہیں آگاہ کیا تھا کہ حماس ایک بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے موجودہ وزیراعظم نتن یاہو پر 7 اکتوبر 2023ء کے حملے سے قبل ملنے والے انتباہات کے معاملے میں "مجرمانہ غفلت” کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واضح انتباہات کے باوجود نتن یاہو نے نہ تو سیکیورٹی چیفس کو آگاہ کیا اور نہ ہی ملک کو اس صورتحال کے لیے تیار کیا۔
آئندہ انتخابات میں نتن یاہو کے حریف تصور کیے جانے والے بینیٹ نے "ہارٹز” کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے عبرانی زبان میں ایکس پر لکھا کہ صبح سامنے آنے والی یہ رپورٹ درست ہے کہ نتن یاہو کو 7 اکتوبر کے قتلِ عام سے 10 دن قبل حماس کے غزہ رہنما یحییٰ سنوار کے ارادوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ بینیٹ کے بقول: "نتن یاہو ذاتی اور براہِ راست طور پر اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں جس کے نتیجے میں ان کے دورِ اقتدار میں ہزاروں اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ وہ اس عہدے کے اہل نہیں رہے۔”
ہارٹز کی تحقیقات کے مطابق اماراتی رہنما نے نتن یاہو کو واضح طور پر بتایا تھا کہ سنوار اسرائیل کے خلاف ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ دوسری جانب نتن یاہو کے دفتر نے اماراتی صدر کے ساتھ کسی ایسی ملاقات یا بات چیت کی تردید کی ہے۔

