یورپ بھر میں "پرورٹ” اسمارٹ گلاسز کے خلاف کارروائی کے مطالبات زور پکڑنے لگے

Inquilab 20260912 193750 0000 d


برسلز — اسمارٹ گلاسز کے ذریعے لڑکیوں اور خواتین کی خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ پر بڑھتی تشویش کے بعد یورپ بھر میں ریگولیشن کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔ ناروے نے اسکولوں میں اسمارٹ گلاسز لانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور چہرے کی شناخت کی خصوصیات پر وسیع تر پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔ برطانیہ میں ایک ۱۷ سالہ لڑکی نے چینل ۴ نیوز کو بتایا کہ گفتگو کے دوران ایک شخص نے اسمارٹ گلاسز کی مدد سے خفیہ طور پر اس کی ویڈیو بنائی۔
میٹا نے رے-بین ساز ادارے ایسیلور لکسوٹیکا کے اشتراک سے ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۷۰ لاکھ جوڑے اسمارٹ گلاسز فروخت کیے — جو ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء کی مجموعی فروخت (۲۰ لاکھ جوڑے) سے کہیں زیادہ ہے۔ سویڈش ڈیزائنر میٹیوش پوزار نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد "بین رے” مہم شروع کی ہے۔ یورپی یونین کی قانون ساز ویرونیکا سیفرووا اوستری ہونووا نے یورپی کمیشن سے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین سے مطابقت پر وضاحت طلب کی ہے مگر تاحال جواب نہیں آیا۔ برطانیہ اور آئرلینڈ میں "اسٹاپ اسمارٹ گلاسز” پٹیشن پر ۹۱۰۰ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔ میٹا نے کہا ہے کہ اس نے ریکارڈنگ انڈیکیٹر لائٹ سے چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ