خالد خان
سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ فعلِ فاحش کے جرم میں سزائے موت دیے جانے کا واقعہ مسجد کے تقدس اور شرعی احکام کے یکساں نفاذ سے متعلق ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے 14 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اپنے سرکاری عربی بیان میں بتایا کہ نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، دونوں بنگلہ دیشی شہریوں، نے مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں فعلِ فاحش کا ارتکاب کیا۔ وزارت کے مطابق عدالت نے جرم ثابت قرار دیتے ہوئے فعل کی سنگینی اور زمان و مکان کی حرمت پامال کرنے کے باعث تعزیری سزائے موت سنائی۔ فیصلے کی توثیق اور شاہی حکم کے بعد 14 اکتوبر کو مکہ کے علاقے میں سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ وزارت نے مساجد کی حرمت پامال کرنے اور عزت و آبرو پر حملہ کرنے والوں کے خلاف شرعی احکام نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
اس واقعے کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ اگر سعودی عرب میں مسجد کے اندر ایک غیر اسلامی فعل کو مسجد کے تقدس کی پامالی سمجھتے ہوئے اس قدر سنگین سزا دی گئی تو کیا یہی اصول دنیا بھر کی مساجد پر لاگو نہیں ہونا چاہیے؟ مسجد سعودی عرب میں ہو، پاکستان میں، بنگلہ دیش میں یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں، اس کا تقدس یکساں ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ عرب تھے اور سعودی عرب اسلامی نظام کے تحت فیصلے کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگر وہاں مسجد کی حرمت شرعی حکم کی بنیاد پر اتنی اہم ہے تو پاکستان میں بھی اسی اصول کو یکساں اہمیت ملنی چاہیے۔
اسلام میں مسجد محض اینٹوں اور پتھروں سے بنی عمارت نہیں، عبادت، قرآن کی تعلیم اور دینی تربیت کا مقدس مقام ہے۔ اس کے تقدس کی پامالی کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ جب مسجد میں کسی غیر اسلامی فعل پر سخت سزا دی جا سکتی ہے تو قرآن پڑھانے کی آڑ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کے خلاف بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں ہوتا؟ مسجد کا تقدس صرف اس کی عمارت تک محدود نہیں؛ اس سے وابستہ اعتماد اور وہاں آنے والے بچوں کی عزت بھی اسی تقدس کا حصہ ہے۔
پاکستان میں 2026 کے دوران سامنے آنے والی ایف آئی آرز کی خبریں اس سوال کو مزید اہم بناتی ہیں۔ 25 فروری کو راولپنڈی میں مدرسے سے وابستہ ایک شخص کے خلاف بارہ سالہ طالب علم کے مبینہ جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج ہونے کی خبر سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق بچے کو مبینہ طور پر جنسی فعل کی ویڈیو کے ذریعے خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
9 جولائی کو وزیرآباد میں مدرسے کے استاد قاری عبداللہ کے خلاف سات سے پندرہ سال کی عمر کے تین بچوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج ہونے اور گرفتاری کی خبر شائع ہوئی۔ بچوں کے مطابق ملزم انہیں دھمکیاں دیتا تھا تاکہ وہ اپنے والدین کو واقعے سے آگاہ نہ کریں۔
17 جولائی کو جھنگ میں ایک امامِ مسجد اور قرآن کے استاد کے خلاف تیرہ سالہ بچے کے مبینہ جنسی استحصال کا مقدمہ درج ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ شکایت کے مطابق ملزم نے دوسرے بچوں کو بھیج کر ایک طالب علم کو مسجد میں روک لیا تھا۔
28 جولائی کو چکوال کے علاقے کلر کہار میں ایک امامِ مسجد کے خلاف دس سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج ہونے کی خبر شائع ہوئی۔رپورٹ کے مطابق بچی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹیاں مسجد میں قرآن پڑھنے جاتی تھیں اور ملزم نے بڑی بچی کو دوسرے بچوں کے جانے کے بعد روک کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خبر میں ملزم کی گرفتاری کا بھی ذکر تھا۔
13 ستمبر کو جھنگ کے علاقے کوٹ شاکر میں ایک مدرسے کے استاد کے خلاف بارہ سالہ قرآن کے طالب علم سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ سامنے آیا۔ اس واقعے سے متعلق خبر میں ایف آئی آر کے ساتھ طبی معائنے کی رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق کا ذکر بھی کیا گیا۔
10 اکتوبر کو مری کے نواحی علاقے سحر بگلہ میں ایک امامِ مسجد کے خلاف سات بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں مقدمہ درج ہونے اور گرفتاری کی خبر شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھاتا تھا۔
یہ 2026 کے دوران سامنے آنے والے چھ واقعات ہیں، پورے پاکستان میں درج ہونے والے ایسے تمام مقدمات کی مجموعی تعداد نہیں۔ ان خبروں سے ایک تلخ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن پڑھانے، دینی تعلیم دینے اور مسجد میں عبادت کی رہنمائی کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، اگر انہی پر بچوں کے جنسی استحصال کے الزامات سامنے آئیں تو مسجد اور دینی تعلیم سے وابستہ اعتماد کا کیا بنے گا؟
مولوی دین سے زیادہ واقف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اسے قرآن، شرعی احکام اور اسلامی اخلاقیات کی تعلیم حاصل ہوتی ہے۔ والدین بھی اسی اعتماد کے تحت اپنے بچوں کو اس کے پاس قرآن پڑھنے بھیجتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص اسی منصب اور اعتماد کو بچوں کے استحصال کے لیے استعمال کرے تو اس کی ذمہ داری عام شخص سے زیادہ بنتی ہے۔ علم انسان کو جواب دہی سے آزاد نہیں کرتا، بلکہ اس پر ذمہ داری بڑھاتا ہے۔
اصل مدعا کسی مذہبی طبقے کی مخالفت نہیں، بلکہ مسجد کے تقدس کے ایک ہی اصول کا مطالبہ ہے۔ اگر سعودی عرب میں مسجد کے اندر فعلِ فاحش کو شرعی جرم اور مسجد کی حرمت کی پامالی سمجھا جاتا ہے تو پاکستان میں بھی مسجد کے تقدس کو اسی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ قرآن پڑھانے والے کسی شخص کا منصب اسے اس اصول سے بالاتر نہیں کر سکتا۔ مسجد کی حرمت کے نام پر سختی کا اصول اختیار کیا جائے تو بچوں کے تحفظ اور ان کی عزت کے معاملے میں بھی اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مسجد کا تقدس سعودی عرب میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی۔ اسلام کا اصول سرحدوں کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا۔ اگر مسجد کی حرمت پامال کرنا وہاں سنگین جرم ہے تو یہی اصول یہاں بھی یکساں اہمیت رکھنا چاہیے۔ اور جو شخص قرآن پڑھانے کے منصب پر فائز ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اس مقدس ذمہ داری کے وقار کو اپنے کردار سے ثابت کرے، نہ کہ اسی اعتماد کو پامال کرے۔

