ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہوجائے گی :امریکی صدر ٹرمپ

news 1793370425 7668



news 1793370425 7668

(24 ںیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی، تاہم امریکا کو اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع جلد اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق امریکی ریڈیو اسٹیشن ’کے سی ایم او‘ کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہوگی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب العربیہ انگلش نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن نے ثالثوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ ایران کا اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا کسی بھی مذاکرات کی بنیادی شرط ہے۔

ذرائع کے مطابق، ثالث ایران کے ساتھ اس امکان پر بات چیت کر رہے ہیں کہ جوہری تنصیبات تک بین الاقوامی معائنہ کاروں کو رسائی دینے کے بدلے ایران کے منجمد فنڈز میں سے کچھ رقم جاری کی جائے۔

ادھر ایران کے حوالے سے امریکی حکومت کے ارادوں پر متضاد اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ اگلے ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک نئے مجوزہ امن فریم ورک کے تحت تہران سے رابطے کر رہے ہیں۔ اس طرح ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی تیاریوں سے متعلق اطلاعات کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور قطر نے ایک بار پھر اپنا وفد تہران بھیجا ہے تاکہ ایرانی حکام سے مذاکرات کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق قطری وفد پانچ روز قبل بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکی پیغام کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ایران کی پیش کردہ سات شرائط تسلیم کرنا ضروری ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ امریکا مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بنیادی اہمیت دینا چاہتا ہے، جب کہ تہران کا مطالبہ ہے کہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کی جائے اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھائی جائیں۔

اس سے قبل قطر نے ایران کو امن معاہدے کا مسودہ بھی پیش کیا تھا، جسے ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ناقابل قبول قرار دیا۔

ادھر وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رکے ہوئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کے طور پر ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی کو خط بھیجا تھا۔ تہران کو یہ پیغام موصول ہو چکا ہے، تاہم اس نے تاحال جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں :فیس بک میں کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے ایک نیا فیچر متعارف





Source link

متعلقہ پوسٹ