اسلام آباد ): سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے کسی شخص کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنا سراسر غیرقانونی اور غیرآئینی عمل ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنا کسی شہری کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ شناختی کارڈ کے بغیر کوئی بھی شہری اپنی روزمرہ زندگی، بینکنگ، صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات تک رسائی سے محروم ہو جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی شخص کو قانونی عمل کے بغیر اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا متعلقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان میں اکثر اوقات مختلف عدالتی و انتظامی معاملات میں افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے جاتے رہے ہیں، جس سے لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

