پاک-افغان کشیدگی: اسلام آباد کی فضائی کارروائی کے بعد کابل کی جوابی دھمکی

FB IMG 1771745735045

پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سات دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد افغان وزارتِ دفاع نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کا جواب "مناسب وقت” پر دیا جائے گا۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے
پاکستانی فضائیہ نے حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں کے واقعات شامل ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے منسلک سات ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ اس کارروائی کا اہم ہدف تھا، جو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشتگرد حملوں کا ذمہ دار ہے۔
کابل میں افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں پاکستانی کارروائی کو افغان خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملکی دفاع ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اس نوعیت کے حملے پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
فضائی حملوں کے فوری بعد پاکستان کے ضلع کرم اور جنوبی وزیرستان کے مقام انگور اڈہ پر دونوں ممالک کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے سرحد پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئ
علاقائی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان وزارتِ دفاع کا یہ بیان محض رسمی احتجاج نہیں بلکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کابل اس معاملے کو سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر دیکھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق "مناسب وقت پر جواب” کی عبارت جان بوجھ کر مبہم رکھی گئی ہے تاکہ تمام آپشن کھلے رہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی انتہائی محدود ہیں اور ٹی ٹی پی کا مسئلہ ایک ایسا پیچیدہ گرہ ہے جو ماضی میں بھی کسی سفارتی فارمولے سے نہیں سلجھ سکا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیانات کی سختی اسی طرح جاری رہی تو یہ کشیدگی وسیع تر تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات سرحدی قبائل اور لاکھوں افغان مہاجرین پر بھی مرتب ہوں گے۔
آگے کیا؟
تجزیہ کار چین اور قطر کو ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو ماضی میں بھی افغانستان سے متعلق معاملات میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ تاہم فی الحال کسی سفارتی پہل کے آثار نظر نہیں آتے اور دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ