قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی — سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

IMG 20260217 WA0061 1


اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محض کسی زمین پر قبضہ رکھنے یا طویل عرصے تک اسے اپنے پاس رکھنے سے قانونی ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ ملکیت کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس قانونی دستاویزات اور شواہد ناگزیر ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی فریق زبانی معاہدے کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کرے تو اسے معاہدے کی تاریخ، وقت، مقام، طے شدہ شرائط اور گواہان کی مکمل تفصیل فراہم کرنا لازمی ہے۔ محض زبانی بیان یا ادھوری معلومات کی بنیاد پر ایسے دعوے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
اسی اصول کے تحت عدالت نے 1992 کے ایک مبینہ زبانی معاہدے کی بنیاد پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے پایا کہ تین دہائیوں پرانے اس دعوے کی حمایت میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا اور نچلی عدالتوں نے قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ صادر کیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جائیداد کے تنازعات میں ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور آئندہ ایسے مقدمات میں جہاں زبانی معاہدوں کی آڑ میں جائیدادیں ہتھیانے کی کوشش کی جاتی ہے، اس فیصلے سے رہنمائی لی جائے گی۔

متعلقہ پوسٹ